اردوئے معلیٰ

زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا

زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا

وہ عبدِ خاص و مکرم ہمیں یگانہ ملا

 

زمانے بھر میں بہت سے حسین ہیں لیکن

کوئی بھی ثانی ترا شاہِ دوسرا نہ ملا

 

سخنوران جہاں سر پٹختے پھرتے ہیں

برائے مدحتِ نعلین قافیہ نہ ملا

 

رضا خدا کی ، انہی کی رضا سے ہے منسوب

بغیر عشقِ محمد کبھی خدا نہ ملا

 

تمھارے در پہ پڑے ہیں اِدھر اُدھر کے نہیں

تمھارے در کے سوا کوئی آسرا نہ ملا

 

زبانِ اردو میں نعتیں رقم تو ہوتی رہیں

مگر کوئی بھی ہمیں ثانیٔ رضا نہ ملا

 

گدائے عشقِ نبی طیبہ سے پلٹتے ہوئے

وفورِ ہجرِ مدینہ سے خوش نما نہ ملا

 

بروزِ حشر الٰی غیری کی صدائیں ہیں

کسی کو تیرے سوا کوئی پیشوا نہ ملا

 

امام میرا علی ہے تو پیر جیلانی

تری عطا سے ہمیں ایسا پیر خانہ ملا

 

میں پنجتن کا ہوں منظرؔ اور اس پہ فاخر ہوں

درِ رسول سے کیا خوب یہ گھرانہ ملا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ