اردوئے معلیٰ

زمیں کا رزق ہوا روشنائی کا قطرہ

زمیں کا رزق ہوا روشنائی کا قطرہ

قلم کی نوک سے اک داستان ٹپکی تھی

 

پھر اس کے بعد رکابوں میں رہ گئے پاوں

جنوں کی پشت کو تیرا فراق، تھپکی تھی

 

پگھل سکا نہ مرا منجمد ہراس، بھلے

ترے وجود کی لو بار بار لپکی تھی

 

بدل گئے ہیں افق پار تک سبھی منظر

گماں نے آنکھ فقط ایک بار جھپکی تھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ