ساحر لدھیانوی کا یومِ پیدائش

آج نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کا یومِ پیدائش ہے۔

ساحر لدھیانوی
(پیدائش: 8 مارچ 1921ء – وفات: 25 اکتوبر 1980ء)
——
’’ساحر لدھیانوی نے ہیئت کے بجائے معنی اور موضوع اور سب سے زیادہ اندازِ بیان میں اجتہاد کیا ہے۔ اس کی شاعری کی بنیاد شدّت احساس پر ہے اور میرے خیال میں اُس کے اسلوب کا حسن بھی شدید احساس سے ہی عبار ت ہے، ساتھ ہی اسے ابہام سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ احمد ندیم قاسمی
اپنی شاعری کے ذریعہ، بطور خاص، نوجوانوں کے دلوں کو گرمانے اور فلموں کے لئے ادبیت سے بھرپور نغمے لکھنے کے نتیجہ میں معترضین کی جانب سے "عنفوان شباب کا شاعر” قرار دئے جانے والے ساحر لدھیانوی ان مقبول عام شاعروں میں سے ایک ہیں جن پر ترقی پسند شاعری بجا طور پر ناز کر سکتی ہے۔ جہاں تک ٹین ایجرس کا شاعر ہونے کا تعلق ہے،اس کا جواب سردار جعفری نے یہ کہہ کر دے دیا ہےکہ "جس نے ساحر لدھیانوی کو یہ کہہ کر کمتر درجہ کا شاعر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ نوعمر لڑکے لڑکیوں کا شاعر ہے ،اس نے ساحر کی شاعری کی صحیح قدر و قیمت بیان کی ہے۔ نوعمر لڑکے لڑکیوں کے لئے شاعری کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اُن کے دل میں تروتازہ امنگیں ہوتی ہیں، آلودگی سے پاک آرزوئیں ہوتی ہیں،زندگی کے خوبصورت خواب ہوتے ہیں اور کچھ کر گزرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ اُن کے جذبات و کیفیات کو ساحر لدھیانوی نے جس طرح شاعرانہ روپ دیا ہے وہ اس کے کسی ہم عصر شاعر نے نہیں دیا۔ اُس سے پہلے کے شاعروں سے اس کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔” بہرحال یہ تو معترضین کے الزام کا جواب تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ رومان اور احتجاج کی آمیزش سے ساحر نے اپنی انفرادیت کے ساتھ ترقی پسند تحریک کی شاعری کو اک نیا رُخ دیا۔ ساحر لدھیانوی کے اسلوب کی نرمی، شایستگی اور سرشاری اُن کے طرز و آہنگ کو ان کے ہم عصروں سے جدا کرتی ہے۔ ویسے ساحر کی رومانی نظموں کا آہنگ رومانی ہے اور سیاسی و انقلابی نظموں کا اسلوب و آہنگ احتجاجی ہے۔ ان کی سیاسی اور احتجاجی نظموں میں اک گرمی،اک تپش ہے۔ ان کا انداز بیان،ان کا لفظوں کا انتخاب،تشبیہوں اور استعاروں کے استعمال کا طریقہ اتنا مکمل اور جامع ہے جو دوسرے شعراء کی دسترس سے باہر ہے۔ بڑی عمر کے شعراء بھی ان کو حقیقی شاعر تسلیم کرتے ہیں اور ان کے اشعار تنقید کے معیار پر بھی پورے اترتے ہیں۔ نغمگی،موسیقیت اور تغزل کی آمیزش نے ان کی غزلوں، نظموں اور گیتوں میں تاثیر کی شدت پیدا کرتے ہوئے،انھیں مقبولِ خاص و عام بنا دیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : رشید لکھنوی کا یوم پیدائش
——
ساحرلدھیانہ کے اک جاگیردار گھرانے میں 8 مارچ 1921ءکو پیدا ہوئے اور ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا۔ان کے والد کا نام چودھری فضل محمد تھا اور وہ انکی گیارھویں، لیکن خفیہ، بیوی سردار بیگم سے ان کی پہلی اولاد تھے۔ ساحر لدھیانوی کی پیدائش کے بعد ان کی ماں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ کو باقاعدہ شکل دی جائے تاکہ آگے چل کر وراثت کا کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو۔ چودھری صاحب اس کے لئے راضی نہیں ہوئے تو سردار بیگم ساحر کو لے کر شوہر سے الگ ہو گئیں۔ اس کے بعد ساحر کی تحویل کے لئے فریقین میں مدّت تک مقدمہ بازی ہوئ۔ ساحر کی پرورش ان کے نانہال میں ہوئی۔ جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا۔ یہیں سے انھیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔ 1939 میں اسی اسکول سے انٹرنس پاس کرنے کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کی۔ بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوئے اور کالج سے نکالے گئے۔ وہ کالج سے بی اے نہیں کر سکے لیکن اس کی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں” 1944 میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا۔ وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف "کے ایڈیٹر بن گئے۔ بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی۔ اسی زمانہ میں ان کے کالج کے اک دوست آزادی کی تحریک پر ایک فلم "آزادی کی راہ پر” بنا رہے تھے۔ انھوں نے ساحر کو اس کے گیت لکھنے کی دعوت دی اور ساحر بمبئی چلے آئے۔ یہ فلم نہیں چلی۔ ساحر کو بطور گیت کار فلمی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑے اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ عامیانہ گیت لکھنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ آخر اک دوست کے توسط سے ان کی ملاقات ایس ڈی برمن سے ہوئی جن کو اپنے مزاج کے کسی گیت کار کی ضرورت تھی۔ برمن نے ان کو اپنی ایک دھن سنائی اور ساحر لدھیانوی نے فوراً اس پر” ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں” کے بول لکھ دئے۔ برمن پھڑک اٹھے۔ اس کے بعد وہ ایس ڈی برمن کی دھنوں پر باقاعدگی سے گیت لکھنے لگے اور اس جوڑی نے کئی یادگار گانے دئے۔
ساحر لدھیانوی نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔ دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک زیریں لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کے مظاہر وقتا فوقتاً سامنے آتے رہتے تھے۔ انھوں نے یوں ہی نہیں کہہ دیا تھا "دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں/ جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں۔” ان کے معاشقوں کا قصہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ امرتا پریتم اور سدھا ملہوترا کے ساتھ ان کے معاشقوں کا خوب شہرہ رہا۔ لیکن انھوں نے کبھی شادی نہیں کی۔ لڑکیوں کے ساتھ ان کا معاملہ کچھ اس طرح تھا کہ پہلے وہ کسی پر عاشق ہوتے اور جب وہ خود بھی ان کے عشق میں گرفتار ہو جاتی تو معشوق بن جاتے اور اس کے ساتھ وہی سب کرتے جو اردو غزل کی جفاکار معشوقہ اپنے عاشقوں کے ساتھ کرتی ہے اور بالآخر الگ ہو جاتے۔ اور اس طرح وہ زندگی کی محرومیوں سے اپنا انتقام لے کر خود اپنا سینہ لہو لہان کرتے۔ امرتا کے ساتھ ان کا معاملہ بڑا رومانی اور عجیب تھا۔ امرتا شادی شدہ ہونے کے باوجود ان پر مر مٹی تھیں۔ عالم یہ تھا کہ جب ساحر لدھیانوی ان سے ملتے اور سگرٹیں پھونک کر واپس چلے جاتے تو تو وہ ایش ٹرے سے ان کی بجھی ہوئی سگرٹوں کے ٹوٹے چنتیں اور انھیں سلگا کر اپنے ہونٹوں سے لگاتیں۔ دوسری طرف ساحر لدھیانوی صاحب اس پیالی کو دھونے کی کسی کو اجازت نہ دیتے جس میں امرتا نے ان کے گھر پر چائے پی ہوتی۔ وہ اس جھوٹھی پیالی کو بطور یادگار سجا کر رکھتے۔ لیکن امرتا کی آمادگی کے باوجود انھوں نے ان سے شادی نہیں کی۔ امرتا سمجھدار ہونے کے باوجود اپنے عشق کی ناکامی کے لئے خود کو ساحر کی نظر میں "زیادہ ہی خوبصورت” ہونے کو ذمہ دار ٹھہراتی رہیں۔ پھر سدھا ملہوترا سے ان کا چکّر چلا اور خوب چلا۔ ساحر نے سدھا کو فلم انڈسٹڑی میں پروموٹ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ اور یہ سب کرنے کے بعد "چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں” کہہ کر کنارہ کش ہو گئے۔ زندگی سے انھیں جو کچھ ملا تھا اسے لوٹانے کا ان کا یہ طریقہ نرالا تھا۔ فلموں کے نہایت کامیاب گیت کار بن جانے اور معاشی طور پر آسودہ حال ہو جانے کے بعد ساحر میں بد دماغی کی حد تک رعونت پیدا ہو گئی تھی۔ انھوں نے شرط رکھ دی کہ وہ کسی دھن پر گیت نہیں لکھیں گے بلکہ ان کے گیت پر دھن بنائی جائے۔ انھوں نے اپنے محسن ایس ڈی برمن سے مطالبہ کیا کہ وہ ہارمونیم لے کر ان کے گھر آئیں اور دھن بنائیں۔ برمن بہت بڑے موسیقار تھے ان کو اپنی یہ اہانت برداشت نہیں ہوئی اور "پیاسا” اس جوڑی کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کو گیت کا معاوضہ لتا منگیشکر سے ایک روپیہ زیادہ دیا جاے جو اک نامعقول شرط تھی۔ انھوں بہرحال اک معقول مطالبہ بھی کیا کہ وودھ بھارتی پر نشر کئے جانے والے گانوں میں گیت کار کے نام کا بھی اعلان کیا جائے۔ یہ مطالبہ منظور ہوا۔ ساحر نے بیشمار ہٹ گانے لکھے۔ ان کو 1964 اور 1977 میں بہترین گیت کار کا فلم فیر ایوارڈ ملا۔
ساحر لدھیانوی نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسروں نے کم ہی کئے ہوں گے۔ انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔ انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے۔ ساحر لدھیانوی کی شاعری، بالخصوص نظموں میں،ان کے ذاتی تجربات و مشاہدات کا خاص اثر نظر آتا ہے۔ ان کے ذاتی تجربات اور احساسات نے انکی شاعری میں،دوسرے شعراء کے مقابلہ میں زیادہ سچّائی اور گداز پیدا کیا اور محبت کی آمیزش نے اسے آفاقیت عطا کی۔
ان کی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انھیں 1971 میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1972 میں مہارازشر حکومت نے انھیں "جسٹس آف پیس” ایوارڈ دیا 1973 میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں” کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ” اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔ 1974 میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں ‘اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ 8مارچ 2013ء کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ 1980 میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔
——
منتخب کلام
——
پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلہ
دیکھیے ، آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو
——
ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے
——
اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار
بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے
——
بس اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے
——
تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو
برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے
——
محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے
——
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے
ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
——
حیات اک مستقل غم کے سوا کچھ بھی نہیں شاید
خوشی بھی یاد آتی ہے تو آنسو بن کے آتی ہے
——
ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوۓ آنسو توبہ
میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا
——
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست
سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
——
لو آج ہم نے توڑ دیا رشتہء امید
لو اب کبھی گلا نہ کریں گے کسی سے ہم
——
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کر گۓ گزرے جدھر سے ہم
——
مایوسئی مآل محبت نہ پوچھیۓ
اپنوں سے پیش آۓ ہیں بیگانگی سے ہم
——
بَشرطِ استواری
خُونِ جمہور میں بھیگے ہُوئے پرچم لے کر
مجھ سے افراد کی شاہی نے دُعا مانگی ہے
صُبح کے نُور پہ تعزِیز لگانے کے لیے
شب کی سنگِین سیاہی نے وَفا مانگی ہے
اور یہ چاہا ہے کہ میں قافلۂ آدم کو
ٹوکنے والی نِگاہوں کا مددگار بنُوں
جس تصوّر سے چراغاں ہے سرِ جادۂ زِیست
اُس تصوِیر کی ہزِیمت کا گنہگار بنُوں
ظلم درپردہ قوانین کے ایوانوں سے
بیڑیاں تکتی ہیں، زنجیر صدا دیتی ہے
طاقِ تادِیب سے اِنصاف کے بُت گھُورتے ہیں
مسندِ عدل سے شمشیر صدا دیتی ہے
لیکن اے عظمتِ اِنساں کے سُنہرے خوابو
میں کسی تاج کی سطوت کا پرِستار نہیں
میرے افکار کا عنوانِ اِرادت تم ہو
میں تمھارا ہُوں، لُٹیروں کا وَفادار نہیں
——
یادِ رفتگاں
پھر وہ عزیز و اقربأ
جو توڑ کر عہد وفا
احباب سے منہ موڑ کر
دنیا سے رشتہ توڑ کر
حدِّافق سے اس طرف
رنگِ شفق کے اس طرف
اِک وادئ خاموش کی
اِک عالمِ مدہوش کی
گہرائیوں میں سو گئے
تاریکیوں میں کھو گئے
ان کا تصور ناگہاں
لیتا ہے دل میں چٹکیاں
اور خوں رلاتا ہے مجھے
بے کل بناتا ہے مجھے
——
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
رُوح بھی ہوتی ہے اُس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
رُوح کیا ہوتی ہے اِس سے اُنہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں
رُوح مرجائے، تو ہر جسم ہے چلتی ہوئی لاش
اِس حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں
کئی صدیو ں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے
کئی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج
لوگ عورت کی ہر اِک چیخ کو نغمہ سمجھیں
وہ قبیلوں کا زمانہ ہو، کہ شہروں کا سماج
جبر سے نسل بڑھے، ظلم سے تن میل کرے
یہ عمل ہم میں ہے، بے علم پرندوں میں نہیں
ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
——
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ، یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں‌کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اوڑھاتی رہیں ظلمت کا نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمتِ ناکارہ و رسواسے کہو
جبر کی حکمتِ پرکارکے ایماسے کہو
محملِ مجلسِ اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے ‘ دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہء تند ہے ‘خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں‌سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں‌ سے
ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے
——
مادام
آپ بے وجہ پریشان سی کیوں‌ ہیں مادام؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
نورِ سرمایہ سے ہے روئے تمدّن کی جِلا
ہم جہاں ‌ہیں وہاں‌ تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِّ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں‌ میں نہیں ڈھل سکتی
لوگ کہتے ہیں تو لوگوں ‌پہ تعجب کیسا؟
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں۔۔۔ مگر آپ ابھی تک چپ ہیں
آپ بھی کہیے، غریبوں میں شرافت کیسی
نیک مادام! بہت جلد وہ دَور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم! آپ کی عظمت کی قسم!
ہم کو تعظیم کے میعار پرکھنے ہوں گے
ہم نے ہر دور میں تذلیل سہی ہے، لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں ‌محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں ‌کو حنا بخشی ہے
لیکن ان تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں‌ گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میں جہاں ‌ہوں، وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے
——
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاوں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بے گانہء الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں
انہیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم، تری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں
نہ کوئی جادہء منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاوں میں زندگی میری
انہی خلاوں میں رہ جاوں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں کہ مری ہم نفس مگر یونہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
——
تاج محل
تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
——
خوبصورت موڑ
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سے
نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری
انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ