اردوئے معلیٰ

سخن کی کھیتی پہ جیسے اُترے ثنا کے موسم

سخن کی کھیتی پہ جیسے اُترے ثنا کے موسم

بصد تنوع مہکتے آئے عطا کے موسم

 

طلوعِ صبحِ جمالِ مدحت کی تازگی سے

بکھرتے جائیں گے ابتلا و بلا کے موسم

 

کمال پروَر ہے کوئے جاناں کی موجِ نکہت

جمال افزا ہیں قریۂ دلرُبا کے موسم

 

صراطِ جاوءک پر شفاعت نے جب سنبھالا

تو کون جانے کدھر گئے پھر خطا کے موسم

 

تمہاری خاطر ہی منضبط ہے نظامِ امکاں

تمہارے ہی ، بالیقیں ہیں موسم ، سدا کے موسم

 

بہار آسا ، نوید پروَر ، حیات یاور

بڑے ہیں فیاض اُس سخی کی سخا کے موسم

 

تمہارے لطف و کرم پہ موقوف ہے عنایت

تمہاری مرضی پہ ہیں خُدا کی رضا کے موسم

 

طَلب سے پہلے عطا وہ کرتے ہیں سائلوں کو

خجل ہیں پیشِ حضور سب التجا کے موسم

 

درِ عنایاتِ حرفِ مدحت پہ ایستادہ

سکوت خُو میرے حرف جُو التجا کے موسم

 

درود کی سمت سے کُمک پر نظر جمی ہے

درِ اجابت پہ منتظر ہیں دُعا کے موسم

 

مجھے تو مقصودؔ اُن کی بخشش سے حوصلہ ہے

ہیں جن کے فیضان کا حوالہ بقا کے موسم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ