اردوئے معلیٰ

سرمایۂ فن اپنا ڈوبا جو خساروں میں

صد شکر چلا آیا میں نعت نگاروں میں

 

جس روز سے دیکھا ہے آنکھوں نے دیار اُن کا

اب صبح و مسا گُم ہیں طیبہ کے نظاروں میں

 

سرکار کرم کیجے بے حال ہوئی اُمت

یاں دین کی سچائی گُم ہو گئی غاروں میں

 

بوبکرؓ ہوں، عثماںؓ ہوں، فاروقؓ کہ حیدرؓ ہوں

ہم فرق نہیں کرتے سرکار کے یاروں میں

 

گھنگھور اندھیروں میں، لازم ہے سفینے بھی

رہ یاب ہوں اور دیکھیں کچھ نور ستاروں میں

 

عشاق کی نگری میں ڈھونڈے سے نہیں ملتا

اک اُسوۂ آقا کا آئینہ، ہزاروں میں

 

ایماں ہے کتابوں میں، سچائی کہاں ڈھونڈیں؟

سچائی کے پیکر تو، سوتے ہیں مزاروں میں

 

سرکار کی سیرت کا پرتو بھی نظر آئے

ہیں دل سے اگر شامل ہم مدح گزاروں میں

 

غزوات کی سنت جب زندہ ہو عزیزؔ احسن

نام آئے تمہارا بھی جانباز سواروں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات