اردوئے معلیٰ

Search

سرکار کے جلووں سے معمور نظر رکھئیے

بس ورد درودوں کا ہر شام و سحر رکھیئے

 

بخشش کا سبب ہو گا یہ آپ کا محشر میں

بس یاد سے آقا کی اب آنکھ کو تر رکھئیے

 

تاریک جو راہیں ہیں ہو جائیں گی وہ روشن

سرکار کی یادوں کو ہم راہِ سفر رکھئیے

 

ڈوبی ہوئی عصیاں میں دن رات یہ رہتی ہے

اتنی سی گزارش ہے امت کی خبر رکھئیے

 

گر عشق کا دعویٰ ہے سرکارِ دو عالم سے

کرنے کو فداؔ ان پہ تیار جگر رکھئیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ