سعادت پائی جب ’’عشقِ نبی ﷺ‘ کے ناز اُٹھانے کی

سعادت پائی جب ’’عشقِ نبی ﷺ‘ کے ناز اُٹھانے کی

شفیق احمدؒ نے کی کوشش بہت خود کو چھپانے کی

 

کہاں ممکن ہے پر، ستاریٔ پیہم خزانے کی

بہت حسرت تھی ان کو گھر مدینے میں بسانے کی

 

سو آقا ﷺ نے اجازت بخش دی طیبہ میں آنے کی

مدینے کی فضا میں رہ کے پیہم مسکرانے کی

 

حسیں ماحول کی نورانیت سے حظ اُٹھانے کی

شفیق احمدؒ پہ پھر پڑنے لگیں نظریں زمانے کی

 

جو خواہش تھی یمِ عشقِ نبی ﷺ میں ڈوب جانے کی

ملی فرـصت بھی سنگِ دل کو آئینہ بنانے کی

 

پھر آئی ساعت اک ان پر حسیں وعدہ نبھانے کی

الستُ کی صدا پر نعرۂ ’’یاہو‘‘ لگانے کی

 

تو پرواز عرش تک پھر آپؒ کی فکرِ رسا نے کی

ہوئی تقریب یوں الفت کے کچھ نغمات گانے کی

 

بڑی مہلت ملی آقا ﷺ کو حالِ دل سنانے کی

اجازت پائی آقا ﷺ سے، وہیں بسنے بسانے کی

 

بقیعِ پاک میں آرام گہہ اپنی بنانے کی

کہی اکبرؔنے احسنؔ بات یہ کتنی، ٹھکانے کی

 

’’نگاہیں کاملوں پر پڑ ہی جاتی ہیں زمانے کی

کہیں چھپتا ہے اکبرؔپھول پتوں میں نہاں ہوکر‘‘

 

منقبت (تضمین بر شعرِ اکبرؔ الٰہ آبادی)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپ ﷺ ہی کی سیرت کے خد و خال ظاہر ہوں
پیامِ مغفرت
ہجر میں سوزِ دل تو ہے خیرِ انام ﷺ کے لیے
زباں پہ حمد الٰہی ہے پھر بھی حال ہے یہ
شعرِ مدحت کی مجھے کاش یہ قیمت دی جائے
میری زباں پہ منقبتِ بو ترابؓ ہے
عدالت ہے تن جان فاروقِ اعظم
ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں
اے حسینؑ ابنِ علیؑ، شانِ محمدؐ
اُمت کے لیے اُسوۂ کامل کا نمونہ