سفر (حصہ اول)

انسانوں کی دنیا میں انسان کی زندگی سیدھی راہوں پہ چلتے ہوئے اچانک پرپیچ اور پیچیدہ راستوں پر چل پڑتی ہے ۔ جیسے اچانک سفر کے دوران گاڑی سیدھی سڑک سے اتر کر کچی پگڈنڈی پہ دوڑنے لگے ۔ ہچکولے کھاتی ، ڈھولتی ابھرتی ۔ ۔ ۔ ۔
اور اسٹیرنگ سنبھالے آپ انتظار کی کیفیت میں رہیں کہ اس راستے کا اختتام کب ہوگا ۔ سیدھے ہموار راستے کا کیا گیا کئی گھنٹوں پر محیط سفر اتنا نہیں تھکاتا جتنا پر پیچ اور کچے راستوں کا چند منٹوں کا سفر تھکا دیتا ہے ۔ ذہنی ، اعصابی اور جسمانی طور پر ۔ بسا اوقات روحانی طور پر بھی ۔
جسمانی کے علاوہ باقی کسی طور کو انسان عموما خاطر میں نہیں لاتا اور مسلسل خود پہ جبر کئیے برے اخلاق اور برے مزاج کے ساتھ سفر طے کئیے جاتا ہے ۔ ہمیں اگر کہیں پہنچنے کی جلدی نہ بھی ہو تب بھی ان تمام الجھنوں سمیت ہم گاڑی دوڑائے چلے جاتے ہیں ۔ اگر کچھ دیر رک کر سستا لیا جائے گاڑی سے اتر کر اردگرد کے ماحول کا جائزہ لے کر مکمل معلومات حاصل کر لی جائیں تو شاید یک گونہ اطمینان نصیب ہوسکے ۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ ہم اس کوفت کے ساتھ سفر کرتے جائیں کہ یہ خراب راستہ جانے کہاں ختم ہواور پتہ نہیں ختم ہوتا بھی ہے یا منزل تک کا باقی تمام راستہ ایسا ہی ہے ۔ اسی کشمکش کی کیفیت میں راستہ کم کٹتا ہے اور ہم راستے سے زیادہ کٹتے ہیں ۔
برے حالات میں اعصاب پر گرفت ہونا اور اعصاب کو پر سکون رکھنے کا لائحہ عمل ترتیب دینا برے حالات کی پریشانی کو کافی حد تک کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ گاڑی دوڑائے جانے کی نسبت رک کر سستا لینا اور بقیہ سفر کی معلومات حاصل کر لینا ذہن و دل پر اچھے اثرات مرتب کر سکتا ہے ۔
میرا تعلق پہاڑی علاقے سے ہے جہاں کے راستے پر پیچ الجھے ہوئے اور نہایت خطرناک ہیں ۔ اگر تو آپ اپنے راستے پر چلے جا رہے ہیں اور اردگرد موجود ذیلی راستوں پہ گاڑی موڑ لینے کا خطرہ مول نہیں لیتے تو منزل پہ پہنچنا چنداں مشکل نہیں ۔ لیکن ایک بار بھی اگر غلطی سے آپ ذیلی راستے پہ مڑ گئے تو پھر ایک ایسی بھول بھلیاں میں گم ہوکر چکراتے پھریں گے کہ نہ منزل کا نشاں ملے گا نہ راستوں کا پتہ ۔
جو مین سڑک آپ کو منزل تک لے کر جاتی ہے حالات اس کے بھی ناگفتہ بہ ہیں ۔ سڑک کے ایک طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں ۔ جن پر چیڑھ کے دیو قامت درخت ڈیرا جمائے ہوئے ہیں ، پہاڑوں کو کاٹ کر سڑک بنائی گئی ہے ۔ اسلئیے دوسری جانب گہری کھائیاں ہیں ۔ اگر غلطی سے سڑک کے کنارے پہ ہوئے تو کھائی میں گرنے سے سوائے اللہ کی ذات کے روکنے والا کوئی نہیں ۔
حکومت پاکستان کی مہربانی سے سڑکیں اپنی فطری جبلت پہ موجود ہیں ۔ کہیں کوئی رکاوٹ یا باڑھ نہیں جو 99 فیصد نہ سہی 1 فیصد ہی جان بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہو ۔
سڑک بھی موٹر وے یا ہائی وے کے تصور سے آزاد ہے ۔ بس پتھروں پہ بل ڈوزر چلا کہ تارکول سونگھا دی گئی ہے ۔ باقی رہے نام اللہ کا اور کار جہاں دراز ہے ۔ مزید بر آں کون جیتا ہے تیری گاڑی کے گھر پہنچنے تک وغیرہ وغیرہ۔
ہر دو منٹ بعد ایک سنگین موڑ مڑنا پڑتا ہے اور گول گول گھومتے گھماتے آپ اہستہ آہستہ سطح سمندر سے بلند ہوتے جاتے ہیں ۔ اب اس بلندی پر عظمت کی بلندی کا نام و نشاں تو کہیں نہیں پایا جاتا البتہ بعض اوقات جہالت کی بلندیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں ۔ لیکن یہاں موضوع گفتگو کچھ اور ہے ۔
کسی کام سے ہمیں گاوءں جانا تھا وقت کی قلت اور پہنچنے کی جلدی کےباعث رات ہی کا سفر تجویز ہوا ۔ دن کی گہما گہمی آپ کو لوگوں اور شور کی آوازوں میں اتنا محو رکھتی ہے کہ آپ منہ بسورے اکتائے بوکھلائےسفر کے کٹنے کے انتظار میں ماحول پہ گاہ بگاہ نگاہ ڈال کہ اپنے ساتھی ہمسفروں سے لوگوں، ماحول اور معاشرے کی شان میں چند قصیدے کہنے کے اور جب تک منزل نہ آجائے اسی شغل کوجاری رکھنے کی فکر میں غلطاں رہتے ہیں ۔ لیکن رات اپنے ساتھ بہت سے اسرار لے آتی ہے ۔ آدمی کا ادمی سے رشتہ کٹ کر خود سے جڑجاتا ہے ۔ کہیں اندر کے بلب جلتے بجھتے کبھی کبھار اپنے آپ سے روشناس کروادیتے ہیں ۔ اقبال نے بھی آہ نیم شبی کی آہ تو نہ نکلی لیکن نیم شبی کے اسرار نے بہت الجھائے رکھا۔
رات 10 بجے کے وقت شہر کی حدود سے ہم نکلتے ہیں ۔ گاڑیاں ، چہل پہل روشنیاں ، لوگ ، مست مگن ۔ ۔ ۔ کوئی حال سے بے حال ، کوئی خود سے بے حال ، کوئی مال میں بے حال ، کوئی فقر سے بے حال ۔ ۔ ۔ چہرے ، کہانیاں ۔ ۔
اچانک ماحول پہ سکوت طاری ہوجاتا ہے ۔ سب مناظر غائب ہوجاتے ہیں ۔ بس ایک حد فاصل اور سب گم ۔
اچانک سے گاڑی میں خاموشی در آتی ہے ۔ کہ اندر کے سناٹے بول پڑتے ہیں ۔ لمبی سڑک کا تصور ختم ۔ ایک حد تک سڑک دکھائی دیتی ہے اور لگتا ہے ہر موڑ پر ایک کھائی موجود ہے ۔ گاڑی کی رفتار مدھم ، آہستہ ، وقت ٹھرا ہوا، زمانے تھم جاتے ہیں ۔ گاڑی میں سوار تمام مسافر منزل سے زیادہ آشنا نہیں ہین کہ والدین کسی زمانے میں دیہاتوں سے نکلے تو اولاد شہروں مین پیدا ہو کر پروان چڑھی ہے اور اب اپنی مٹی اس اولاد کو نہین پہچانتی نہ اولاد مٹی سے آشنا ہے ۔
پہاڑوں کے اپنے اسرار ہوتے ہیں یہ آپ کوجکڑ لیتے ہیں ، خود سے باندھ لیتے ہیں آپ پر ہیبت طاری کر دیتے ہیں ۔ شہروں میں موجود تمام دیوقامت یہاں بونے ہوجاتے ہیں ۔
فلان بڑا کامیاب ڈاکٹر ہے ، فلاں انجینئیر ہے ۔ فلان وکیل ہے فلاں جج ہے فلاں ملک کا وزیر اعظم ہے اور فلاں گاوءں کا موچی ہے ۔ پہاڑ سب کی شناخت چھین لیتے ہیں ۔
وہ سب کو چیلنج دیتے ہیں آو ہمین تسخیر کر لو تمھاری عظمت گر ہماری عظمت کو ہرا گیی تو ہم تمھارے قدموں میں جھکے ہوں گے ورنہ تم تو ہو ہمارے قدموں میں ۔
گاڑی کا ماحول خوشگوار ہے ۔ بہن بھائی ایک دوسرے پہ نگاہ ڈالتے ہیں محبت کی شفقت کی ۔
اچانک کھوئی ہوئی شناسائی لوٹ آتی ہے ۔ آسمان پہ ان گنت ستارے ۔ ۔ ۔ ۔ فضا میں چیخیں گونج اٹھتی ہیں ۔
ارے کبھی اتنے ستارے دیکھے کیا ؟
بچپن میں نانی کے گھر میں
پرانا وقت لوٹ آتا ہے ۔ ہوا مین خنکی ہے ۔ چیڑھ کے درخت دھیرے سے ہلتے ہیں عجب سا شور کانوں کو بھلا لگتا ہے ۔ مٹی کی خوشبو چہار اطرف پھیلی ہے جس میں چیڑھ کی گوند کی مہک بھی شامل ہے ۔ گاڑی کے شیشے کھلے ہیں رات آدھی سے زیادہ گہری ہھ دور بھیڑوں کا گلہ دکھائی دیتا ہے ۔حیرت در آتی ہے ۔ اس وقت بھیڑیں اور اتنی تعداد۔ میں
قریب پہنچے تو دل دھک سے رہ جاتا ہے ۔ تیزی سے گاڑی کے شیشے چڑھائے ۔ یہ بھیڑیں نہیں تھیں سوءر تھے ڈر سے میں نے انکھیں میچ لیں ۔
بھائی کے ھاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوط ہوگئے ۔ کان میں آوازیں پریں تو پتہ چلا بخیر و عافیت گزر گئے ۔
ڈر انگڑائی لے کر بیدار ہو چکا تھا ۔ اللہ اللہ کیا خلقت ہوگی ان درختوں میں ان پہاڑوں میں ان کے غارون میں
سوچ کا دھارا مختلف سمتوں میں رواں ہوتا ہے ۔ گاڑی اچانک پکی سڑک سے ناطہ تور بیٹھتی ہے ۔ راستہ سنگلاخ اور پتھریلا ہو چلتا ہے ۔ سب خاموش بیٹھے ہیں ۔ راستہ اجنبی سے اجنبی تر ہوا جاتا ہے ۔ کھائیاں برھتی جارہی ہیں ۔ اسٹیئرنگ پہ جمے ہاتھ پریسان ہیں ، چہرہ فکر میں غلطاں ۔ سب چہروں پہ نگاہ ڈالی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ۔ ارے کہیں دم لو ۔ ہم راستہ بھول چکے ہیں ۔ کافی دیر سے ایک سرد آہ جو سب نے دبا رکھی تھی فضا مین لمبے ہنکارے کے ساتھ خارج ہوتی ہے ۔
اب ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟
ارے گاڑی روکو تو کچھ سوچتے ہیں ۔
سب کی دماغ خراب ہے والی نگاہ مجھ پر پڑتی ہے ۔
رات کا پہر ، انجان راستہ ، سنسان ماحول
گاڑی روکنے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا تھا
لیکن چلانے کا خطرہ اس سے بھی زیادہ تھا ۔
گاڑی واپس موڑ لو
ہم غلط موڑ مڑ چکے ہیں
یہ بات مناسب معلوم ہوئی ۔ گاڑی موڑ لی گئی ۔
( جاری ہے )
حصہ دوم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
حصہ دوم
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بیٹی کے نام خط (۱ )
مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
جب ہم ملے
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار
عدم توازن
خط بنام سہیلی