سفر (حصہ دوم)

حصہ اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
حصہ اول
بے چینی انتشار اور کشمکش نے اندر کہیں انگڑائی لے لی تھی ۔ کہیں آبادی کے آثار شروع ہوئے ۔ ہم ابھی تک اسی ذیلی سڑک پہ رواں تھے ۔ چند دکانیں ، چند گاڑیاں چند بورڈز لگے دیکھ کر گاڑی روک دی گئی ۔
گاڑی تو رک گئی پر خواتین اڑ گئیں کہ صاحب گاڑی کو گاڑی سے اترنے نہ دیا جائے کہ کوئی دشمن دار دشمن کا گمان کر کے وار نہ کر دے ۔ خیر اسی بحثا بحثی میں کچھ مانوس احساس نے سب کو گھیرے میں لے لیا ۔ یک دم خاموشی ہوئی اور پھر قہقہے گونج اٹھے ۔ ارے ہم تو مطلوبہ منزل پر ہی موجود تھے ۔ ہم راستہ کھوئے نہیں تھے بلکہ آگے نکل گئے تھے ۔ منزل مقصود کا بورڈ سامنے ہی آویزاں تھا ۔ حواس کیا بحال ہوئے آشنائی لوٹ آئی ۔ سب مناظر واضح ہوگئے ۔ ارے یہ سیڑھیاں فلاں کے گھر کی ہیں ۔ گاڑی فلاں صاحب کی ہے ۔
بس اس دن جان لیا زندگی بھی ایسا ہی سفر ٹہرا ۔ چلتے چلتے اچانک راستہ انجانا ہو جاتا ہے ۔ انجان راستے آپ کو کہتے کچھ نہیں لیکن ان کی انجانی زبان آپ کو خوف زدہ کر دیتی ہے ۔ کبھی بھی کسی پرانے جانے پہچانے راستے سے آپ خوف زدہ نہیں ہوں گے چاہے وہ کتنا ہی ویران کیوں نہ ہو ۔ اسی طرح ہم پرانے لگے بندھے طور طریقوں سے بھی جڑے رہتے ہیں اور اسی میں آرام اور خوشی محسوس کرتے ہیں ۔
بالکل نیا اور انجان راستہ آپ کو عجیب کیفیات سے دو چار کر دیتا ہے ۔ خوف تجسس، حیرت ، نیا پن ۔ ۔ بہت سی کیفیات آپ پر مل کر حملہ کر دہتی ہیں ۔ایسے ہی نئے طور طریقے بھی خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔
بعض لوگ ان کیفیات سے لطف اندوزی کا رویہ اپنا لیتے ہیں جب کہ بعض دوسرے لوگ مایوسی اور ڈپریشن کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں ۔
بعض مضبوط اعصاب کے مالک راستے کا تجزیہ کر کے اللہ کی مدد مانگ کر درست سمت کا انتخاب کر لیتے ہیں ۔ اور یہی وقت کا امام ٹھرتے ہیں ۔
سفر ان سب کو کرنا ہے کہ رکنے کا جواز نہیں ، رکنے کا سوال نہیں ، رکنا مسئلے کا حل نہیں ۔ کسی کا وقت اچھا گزر جاتا ہے کوئی وقت کو اچھا گزار لیتا ہے اور کوئی اپنی مشکلات میں خود اضافہ کر کے خود کو اتنا ہلکان کر لیتا ہے کہ لمحہ صدی کے برابر ہوجاتا ہے ۔
واپڈا والوں کی مہربانی سے پاکستان میں بجلی کی آنیاں جانیاں لگی رہتی ہے ۔ ہمیں تو یہ آمدورفت بڑی مرغوب ہے کہ جمود کے ہم قائل نہیں ۔
2 گھنٹے بجلی موجود ۔ کوئی ٹی وی میں مگن ، کوئی موبائل ہاتھ میں لئیے مصروف ، کوئی کام دھندے سے لگا ہوا کوئی محو استراحت ۔ ۔
بجلی کے جانے کی دیر ہے وہ تمام حضرات جو اپنے اپنے کاموں میں مصروف و مشغول تھے قومی اتحاد کے جذبے کے تحت بہ یک آواز واپڈا کی شان میں قصیدے کہنے کے فرص کو سنبھال لیتے ہیں ۔ وہ دو گھنٹے جب بجلی موجود تھی کسی ایک زبان سے الحمد للہ کا لفظ سنائی نہ دیا تھا ۔ یہ ایک گھنٹہ استغفر اللہ ، معاذ اللہ ، لعنت اللہ علی الواپڈا کے نعروں سے گونجتا رہتا ہے ۔ مملکت پاکستان کے صاحب اقتدار کے کردہ نا کردہ کرتوتوں پر مفصل روشنی ڈالی جاتی ہے ۔ وہ خواتین جن کا خواندگی سے کچھ لینا دینا نہیں اور جنہیں پاکستان کا پورا نام بھی نہیں آتا اس ایک گھنٹے کے دوران مملکت خداداد کے تمام وزراء و امرا ء کے وہ کرتوت گوش گزارتی ہیں کہ اگر ان بیانات پہ ایک کتاب لکھی جائے تو تعزیرات پاکستان کے تحت یہ امراء و وزراء جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں باقی ماندہ کی زندگی گزاریں ۔
کیونکی وہ کتاب نہ صرف یہ کہ ان صاحبان کی داستان حیات کے تاریک گوشوں کو بے نقاب کرنے والی ہوگی بلکہ ان تاریک گوشوں کے چشم دید گواہان کی فہرست بمطابق قانون شہادت آرڈر ساتھ لف ہوگی ۔
اب گواہان مین محلے کا شیدا نائی ، گھر کا نکما شوہر ، خاندان کا دو لفط پڑھا بابو بچہ ہی کیوں نہ ہو ۔
گواہ بہر حال گواہ ہوتا ہے ۔ اسے قاضی صاحب نے گواہ کی نوکری نہیں دینی کہ تعلیمی اسناد دیکھی جائیں ۔ ایسی گواہی کے لئیے دو آنکھیں ایک ناک دو کان ایک دھڑ دو ہاتھ دو پاوء ں ایک۔ لمبی زبان اور ایک بغیر دماغ کے سر ، یکفی ھذا ۔
غرص اس طرح یہ ایک گھنٹہ زندگی کے تمام گھنٹوں پہ بھاری ہوجاتا ہے کہ گناہوں کا بیان روح کو کثیف کرڈالتا ہے ۔
اری نیک بختو وقت نے گزر ہی جانا ہے کیوں بائیں فرشتے کو زحمت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ چپ کر کے گزار لو ۔
پر نیک بخت ہوں تو نا ۔ ۔ ۔
یہی حال سفر زندگی کا ٹہرا ۔ مصیبت کے انجان رستے اور انجان لمحے میں حواس بے قابو ہو کر تکلیف کے دورانئیے کو بڑھا دیتے ہیں ۔ وقت کا امام بننا مشکل ہے اس کے لئیے مجاھدہ چاہیئے نفس کا مجاھدہ اور یہی امر مشکل ہے حضرت انسان کو ۔ ۔
لیکن یاد رکھئیے جو وقت کے امام نہیں بنتے راستے کی دھول بن جاتے ہیں ۔ منزل پہ دھول بن کر پہنچنے کی بے کار مشقت کو ترک کر کے منزل پر شان سے سر اٹھائے پہنچنے کی روش اپنانے کا گر سیکھ لینا ہی بہتر ہے ۔
سفر نے کٹ ہی جانا ہے راہی کی داستان رہتی دنیا تک قائم رہتی ہے ۔
راہی راہ کا امام بنا تو نسلوں کا فخر ٹھہرا ۔
راہی راہ کا کانٹا بنا تو نسلوں کا ناسور ٹھہرا ۔
راہی راہ کی دھول بنا تو اپنی ہستی پامال کر گیا ۔
راہی نے راہ ہموار کر ڈالی تو سرخرو ہوگیا ۔
راہی نے راہ میں لوگوں کو راستہ دکھانے کو سنگ میل نصب کر دیئے تو روشنی کا مینار ٹھہرا ۔
آسانیاں پیدا کرنے والوں کے لئیے ہی آسانیان ہین کل جہانوں میں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
سفر (حصہ اول)
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
چرواہا
پانچویں ملاقات
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
راول کا پنڈ ' راولپنڈی
پکارا ہم نے جو " اُن " کو
اجنبی ملاقات
چودہ اکتوبر کے نام