اردوئے معلیٰ

سلیم احمد کا یوم پیدائش

آج معروف ادیب،کالم نگار، ڈرامہ نگار اور شاعر سلیم احمد کا یومِ پیدائش ہے

سلیم احمد
اردو زبان میں ایسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔
جناب سلیم احمد1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔
جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔
سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب،کالم نگار،ڈرامہ نگار اور شاعر سلیم احمد کی برسی
———-
سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اور پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔
یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
———-
اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے
———-
سلیم احمد پرمغز، تخلیقی اور ہمہ تن ادب کی آبیاری کرنے والے انسان تھے، انھوں نے ڈرامے بھی لکھے، کالم نگاری کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا، وہ بیدار مغز نقاد بھی تھے، ایک اچھے شاعر بھی تھے نیز شعر و ادب کے لیے جو کچھ وہ کرسکتے تھے انھوں نے کیا، وہ بلاشبہ مختلف الجہات آدمی تھے، ریڈیو، ٹی وی اور اسٹیج کے لیے ڈرامے لکھے تو بہترین ڈرامہ نویس قرار پائے۔
انھوں نے نسیم حجازی کے ناول ’’آخری چٹان‘‘ کی ڈرامائی تشکیل بھی کی اور پاکستان ٹی وی کے بے پناہ مقبول ڈرامے سے انھوں نے خوب نام کمایا، کالم نگاری کی صورت میں سلیم احمد کی ایک اور صلاحیت منظر عام پر آئی۔ 1966 میں انھوں نے روزنامہ حریت کراچی میں پہلی بار کالم لکھنا شروع کیا، ’’مجھے کہنا ہے کچھ‘‘ کے عنوان سے، روزنامہ جسارت میں ’’روبرو‘‘ کے عنوان سے کالم لکھے اور ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں بھی کبھی اپنے نام سے اور کبھی کسی قلمی نام سے سیاسی نوعیت کے کالم لکھے، اور انھوں نے بحیثیت وفاقی مشیر برائے اطلاعات جیسی ملازمت گو کہ چند مہینوں پر مشتمل تھی نہایت دانشمندی اور دیانتداری سے انجام دی۔
سلیم احمد نے یوں تو ساری عمر ہی علمی و ادبی ہنگاموں میں گزاری لیکن آخری چند برسوں میں یہ ہنگامے تیز سے تیز تر ہوتے گئے۔ علم و ادب کے ساتھ ساتھ مذہب اور سیاست سے جو دلچسپی بچپن میں پیدا ہوگئی تھی وہ وقت کے ساتھ زیادہ ہوتی چلی گئی۔ سلیم احمد ایک تخلیقی شخصیت تھے۔ مجموعی طور پر ان کا تخلیقی سفر کم و بیش 45 برسوں پر محیط ہے، اس سفر کے ابتدائی پانچ برسوں کو نومشقی کا زمانہ بھی سمجھ لیا جائے۔ تب بھی وہ مسلسل چالیس سال تک لکھتے رہے، غالباً لکھنا، لکھانا ان کے لیے وظیفہ حیات تھا۔ اگر وہ نہ لکھتے تو شاید زندگی سے اکتا جاتے، اور ان کا اندرونی کرب بڑھتا رہتا۔ یہ شاید ہر تخلیقی شخصیت کے ساتھ ہوسکتا ہے چاہے وہ مصور ہو کہ شاعر، ادیب ہو کہ افسانہ نگار، کچھ نہ کرنا Ability کے ہوتے ہوئے بیکاری کو جنم دیتا ہے لیکن یہ بیکاری کسی تخلیقی عمل(Creative Activity) کے نہ ہونے پر عمل میں آتی ہے۔
سلیم احمد صاحب کی اولین ترجیح تو شاعری ہی تھی، بعد میں یہ دلچسپی فکشن کی طرف آنے سے کچھ کم ہوئی اور پچاس کی دہائی کے آتے آتے وہ باقاعدہ تنقید نگار ہوگئے اور ان کا پہلا تنقیدی مجموعہ ’’ادبی اقدار‘‘ 1956 میں شایع ہوا۔ اسی طرح ’’نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ ان کی دوسری تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب 1962 میں اشاعتی عمل سے گزری۔
غالباً سلیم احمد کا پہلا شعری مجموعہ ’’بیاض‘‘ 1966 میں سامنے آیا۔ 1970 کی دہائی میں ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ اور ’’محمد حسن عسکری، آدمی یا انسان‘‘ لکھیں۔ 1945 سے 1980 تک پچیس برسوں میں سلیم احمد کے تنقیدی مضامین کے تقریباً 6 مجموعے منظر عام پر آئے جب کہ شاعری کی صرف 2 کتابیں شایع ہوئیں۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر سلیم کوثر کا یوم پیدائش
———-
سلیم احمد کا تیسرا شعری مجموعہ ’’چراغ نیم شب‘‘ ان کی وفات کے بعد 1985 میں چھپ سکا۔ شاعری کی ایک کتاب ’’مشرق‘‘ کی تشہیر کئی برس تک ہوتی رہی مگر یہ بھی مرحوم کی وفات کے 6 سال بعد 1989 میں منظر عام پر آئی۔اسی طرح اخباری کالموں کا ایک انتخاب بعنوان ’’اسلامی نظام مسائل اور تجزیے‘‘ بھی ان کی وفات کے بعد 1984 کے وسط میں منظر عام پر آیا۔ سلیم احمد کی پہچان ان کا ڈرامہ ہے، حیرت انگیز طور پر ان کے ڈراموں کا کوئی بھی مجموعہ شایع نہیں ہوسکا۔ اور ان کی شاعری کی کلیات 2003 میں آگئی جس میں ’’بازیافت‘‘ کے عنوان سے سلیم احمد کے نثریے بھی شامل ہیں۔ اس طرح اب تک سلیم احمد کی کل 12 کتابیں شایع ہوئی ہیں۔ ان کی شاعری کی دوسری کتاب ’’اکائی‘‘ تھی جو 1982 میں شایع ہوئی تھی۔
شروع میں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے باقاعدہ رکن تھے لیکن ہمیشہ سے ان کا رجحان جماعت اسلامی کی طرف تھا اور اس سے پہلے وہ خاکسار تحریک کے سرگرم رکن تھے۔ لیکن مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کا خطاب سن کر مسلم لیگ کے حامی ہوگئے۔ وہ سیاست کو ادیبوں کے لیے شجر ممنوعہ نہیں سمجھتے تھے وہ چاہتے تھے کہ ادیب و شاعر پارٹی پالیٹکس Party Politics سے بلند تر ہوکر سوچیں۔ اگرچہ وہ خود خاکسار تحریک، مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے ساتھ ہمہ تن وابستہ رہے لیکن عمر بھر کے تجربے کے بعد آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک ادیب یا شاعر کو کسی مخصوص پارٹی کا تابع مہمل بن کر نہیں رہنا چاہیے، ادب میں گروہ بندی ادب کے لیے مہلک ہوا کرتی ہے، جس سے اس کی ترسیل اور نمو متاثر بھی ہوجاتی ہے۔ سلیم احمد اکثر بیمار رہتے تھے ان پر متعدد بار نروس بریک ڈاؤن کے حملے ہوئے۔
انھوں نے ساقی فاروقی کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ 1957 تک میری یہی کیفیت تھی، 1958 سے 1961 تک مجھ پر لاشعوری اثرات غالب آگئے اور تمہیں شاید یہ سن کر حیرت ہو کہ میں نے ’’نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ لاشعور کی مکمل گرفت کی حالت میں لکھی ہے‘‘۔
سلیم احمد نے اپنا پہلا تنقیدی مضمون ’’زندگی ادب میں‘‘ میں لکھا کہ ’’زندگی اپنی ارتقا پذیر شخصیت کو بہتر سے بہتر پیکر میں ظاہر کرنے کے لیے انسانی معاشرے کو توڑ پھوڑ کر نئے سرے سے بناتی ہے‘‘۔ 1948 میں جب یہ مضمون لکھا گیا تو ’’ادب برائے ادب‘‘ اور ’’ادب برائے زندگی‘‘ کی بحث عام تھی، سلیم احمد موخر الذکر نظریے کے حامی تھے۔ سلیم احمد نے ترقی پسند حضرات کے ساتھ بھرپور اور مدلل اختلاف کیا، اور اس سلسلے میں وقت کے ساتھ ساتھ ان کا انداز جارحانہ ہوتا چلا گیا۔ اپنے مضمون ’’زندگی ادب میں‘‘ میں انھوں نے لکھا کہ ’’ابھی ہمارا ادب زندگی کو ایک ایسی عینک سے دیکھتا ہے جو اس نے فرائیڈ اور مارکس کی دکان سے بغیر اس بات کا لحاظ کیے ہوئے خریدی ہے کہ اس کا نمبر اس کی آنکھوں کے لیے ٹھیک بھی ہے یا نہیں‘‘۔ یعنی مارکس کے افکار اور خیالات کے برخلاف ہے، اور ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’انسانی فطرت اپنے بنیادی تقاضوں بھوک، پیاس، نیند اور جنس وغیرہ کے باوجود محض ان تقاضوں کی اسیر ہوکر نہیں رہ سکتی، یہ اندروں بینی یا حقائق سے روگردانی نہیں تو اور کیا ہے میں پیاس کی شدت یا بھوک کی حالت میں چپکا ہوکر بیٹھ سکتا ہوں یا کوئی اور ایسا کرسکتا ہے یعنی میں اپنے DNA کے برخلاف کروں۔ سلیم احمد سرسید تحریک کے حوالے ایک کتاب بابائے جدیدیت کے عنوان سے لکھنا بھی چاہتے تھے، سلیم احمد کا خیال یہ ہے کہ سرسید کے چھوڑے ہوئے کاموں کو ’’مدرسہ دیوبند‘‘ کے اکابرین نے آگے بڑھایا۔
———-
یہ بھی پڑھیں : شاعر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کا یوم وفات
———-
یہ تحریک مولانا الطاف حسین حالی کے فرمان کے مطابق ہوا کا رخ دیکھ کر پھرنے والی نہیں تھی۔ سلیم احمد جب تک لکھتے رہے پورے احساس فرض اور اخلاص نیت کے ساتھ لکھتے رہے یوں لکھنے کو انھوں نے ہزاروں صفحات لکھ ڈالے لیکن وہ صرف اپنی ادبی تحریروں کو own کرتے تھے۔ باقی سب تحریریں ان کے نزدیک ’’سیٹھ کا مال‘‘ یا کمرشل تحریریں تھیں۔ ان ہی کا ایک شعر ہے ؏
———-
میری زبان آتشیں لو تھی مرے چراغ کی
میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

یہ شعر ان کے تنقیدی رویے کا بھی غماز ہے۔
———-
منتخب کلام
———-
جس کا انکار بھی انکار نہ سمجھا جائے
ہم سے وہ یارِطرحدار نہ سمجھا جائے
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
اب جو ٹھہری ہے ملاقات تو اس شرط کے ساتھ
شوق کو درخورِ اظہار نہ سمجھا جائے
نالہ بلبل کا جو سنتا ہے تو کھل اُٹھتا ہے گل
عشق کو مفت کی بیگار نہ سمجھا جائے
عشق کو شاد کرے غم کا مقدر بدلے
حسن کو اتنا بھی مختار نہ سمجھا جائے
بڑھ چلا آج بہت حد سے جنونِ گستاخ
اب کہیں اس سے سرِ دار نہ سمجھا جائے
دل کے لینے سے سلیمؔ اُس کو نہیں ہے انکار
لیکن اس طرح کہ اقرار نہ سمجھا جائے
———-
جنابِ دل کی بھی خوش فہمیاں بلا کی ہیں
اسی سے داد کے طالب ہیں جس سے شاکی ہیں
جو چپ رہے ہیں کبھی لب بنازِ خوش گوئی
تو اس نگاہ نے ہزار ہا باتیں کی ہیں
خبر تو زُلف کی کچھ دے تری گلی کی ہوا
کہ الجھنیں تو وہی جانِ مبتلا کی ہیں
تمہارے حسن کی باتیں بھی لغزشیں ٹھہریں
تو لغزشیں یہ محبت میں با رہا کی ہیں
———-
ہر چند ہم نے اپنی زباں سے کہا نہیں
وہ حال کون سا ہے جو تونے سنا نہیں
ایسا بھی اب نہیں ہے کہ نازِ صبا اُٹھائیں
محفل میں دیکھتا ہے تو پہچانتا نہیں
یوں بھی ہزار روگ ہیں دل کو لگے ہوئے
پھر اس پہ یہ ملال کہ وہ پوچھتا نہیں
کتنا دیارِ درد کا موسم بدل گیا
تجھ کو نگاہِ ناز ابھی کچھ پتہ نہیں
تو بدگماں سہی پہ کبھی مل سلیمؔ سے
یہ امرِ واقعہ ہے کہ دل کا بُرا نہیں
———-
یہ بھی پڑھیں : صد امتنان و فضلِ خدائے کریم ہے
———-
کسی محفل میں مدت سے غزل خواں ہم نہیں جاتے
کسے اب یاد ہیں وہ عہد و پیماں، ہم نہیں جاتے
نہ ہونے سے ہمارے کون ایسا فرق پڑتا ہے
خدا آباد رکھے بزمِ جاناں ۔۔ ہم نہیں جاتے
صبا کے ہاتھ خوشبو بھیج کر عہدِ بہاراں کی
ہمیں کیوں تنگ کرتے ہیں گلستاں، ہم نہیں جاتے
حرم کا پوچھنا کیا گھر خدا کا ہے مگر اے دل
وہاں تو سب کے سب ہوں گے مسلماں ہم نہیں جاتے
بلاوے تو بہت آئے مگر شہرِ نگاراں میں
وہی ہے امتیازِ جان و جاناں۔ ہم نہیں جاتے
———-
سلیمؔ نفع نہ کچھ تم کو نقدِ جاں سے اُٹھا
کہ مال کام کا جتنا تھا سب دکاں سے اُٹھا
بُرا لگا مرے ساقی کو ذکرِ تشنہ لبی
کہ یہ سوال مری بزم میں کہاں سے اُٹھا
تمام عمر کی محرومیوں کا حاصل تھا
وہ لطفِ خاص جو اک شب کے میہماں سے اُٹھا
———-
اتنا یاروں کو نہ سُوجھا کہ لگا کر لاتے
یوں نہ آتا تو کوئی بات بنا کر لاتے
جانے کیا بول اُٹھے دل کا ٹھکانہ کیا ہے
ایسے وَحشی کو تو پہلے سے پڑھا کر لاتے
یوں بھی سنتا ہے کہیں کوئی فسانہ غم کا
ایسے مضموں کو ذرا اور بنا کر لاتے
ہم تو اس بزم میں اے دل رہے تیری خاطر
کچھ اشارہ بھی جو پاتے تو بُلا کر لاتے
رنگِ محفل کی بڑی دھوم سنی ہے یارو
کیا بگڑ جاتا ہمیں بھی جو دکھا کر لاتے
آج ہی تم کو نہ آنا تھا چلو جاؤ سلیمؔ
ورنہ ہم آج تمہیں اس سے ملا کر لاتے
———-
ترک ان سے رسم و راہِ ملاقات ہو گئی
یوں مل گئے کہیں تو کوئی بات ہو گئی
دل تھا اُداس عالمِ غربت کی شام تھی
کیا وقت تھا کہ تجھ سے ملاقات ہو گئی
رسمِ جہاں نہ چھوٹ سکی ترکِ عشق سے
جب مل گئے تو پُرسشِ حالات ہو گئی
خو بُو رہی سہی تھی جو تجھ میں خلوص کی
اب وہ بھی نذرِ رسمِ عنایات ہو گئی
وہ دشتِ ہول خیز وہ منزل کی دھن وہ شوق
یہ بھی خبر نہیں کہ کہاں رات ہو گئی
کیوں اضطراب دل پہ تجھے آ گیا یقیں
اے بدگمانِ شوق یہ کیا بات ہو گئی
دلچسپ ہے سلیمؔ حکایت تری مگر
اب سو بھی جا کہ یار بہت رات ہو گئی
———-
مسلسل دید بھی شاید کبھی ہو
ابھی تو اس کے ڈر سے کانپتا ہوں
مرا دل جیسے ہمسائے کا گھر ہے
کبھی روزن سے خود کو جھانکتا ہوں
———-
جلا وطنی کے دن پورے ہوئے ہیں
حیاتِ تازہ پانے جا رہا ہوں
کیا ہے طُور کو زندہ کسی نے
میں پھر سے آگ لانے جا رہا ہوں
———-
میرا ماضی مرے پیچھے نہ آئے
مجھے یادوں کی اب فرصت نہیں ہے
نئے خوابوں میں اُلجھایا گیا ہوں
رہی تعبیر سو عُجلت نہیں ہے
———-
دل میں تھی کس کی طلب یاد نہیں
حال جو کل تھا وہ اب یاد نہیں
گریہء شب سے ہیں آنکھیں نم ناک
اور رونے کا سبب یاد نہیں
———-
کبھی اپنی خوشی پر شادماں ہوں
کبھی اپنے غموں پہ نوحہ خواں ہوں
تواضع خود ہی کر لیتا ہوں اپنی
میں اپنے گھر میں اپنا مہماں ہوں
———-
بھُلا بیٹھا تھا جس یادوں کو دل سے
وہی یادیں ہیں جن پر جی رہا ہوں
اُدھیڑا تھا جسے لاکھوں جتن سے
وہ پیراہن میں پھر سے سی رہا ہوں
———-
تمہارے دوش پر بھاری نہیں تھا
یہ احساس کس لیے فرما دیا ہے
عزیز اس قدر عُجلت بھی کیا تھی
مجھے زندہ ہی کیوں دفنا دیا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ