سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں

ہم لوگ وفاؤں کے تضادات میں گم ہیں

 

رستوں میں نہیں سات سمندر کی یہ دوری

یہ سات سمندر تو مری ذات میں گم ہیں

 

ہم لے کے کہاں جائیں محبت کا سوال اب

دل والے بھی اپنے ہی مفادات میں گم ہیں

 

کشکولِ انا کو بھی چٹختا کوئی دیکھے

سب اہلِ کرم لذتِ خیرات میں گم ہیں

 

الفاظ دریچے ہیں جو کھلتے ہیں دلوں میں

معنی مرے سامع کے خیالات میں گم ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا

اشتہارات