سوئی قسمت کو بہ ایں طور جگاتا آقا

سوئی قسمت کو بہ ایں طور جگاتا آقا

مصحفِ زیست کو مدحت سے سجاتا آقا

 

کارِ توصیف سےبنتی ہے ہر اک بات مری

اور کوئی مجھ کو ہنر بھی نہیں آتا آقا

 

یہ فقط نسبتِ نوری سے ہوا ہے افضل

اخضری رنگ جو نظروں کو ہے بھاتا آقا

 

خواہشِ دیدِ حرم بہتی ہے جب آنکھوں سے

نقشِ نعلین ہوں آنکھوں سے لگاتا آقا

 

آلِ اطہار کے صدقے سے ملا اذنِ کلام

شاعرِ نعت جو ہے مجھ کو کہاتا آقا

 

واے قسمت کہ عجم ہے ترے بردے کا وطن

کون دل سے ہے وطن لوٹ کے جاتا آقا

 

جسم لے آیا ہوں واپس میں مدینے سے مگر

دل کسی طور پلٹ کر نہیں آتا آقا

 

قبر میں، حشر میں پُل پر بھی ہو تم سایہ فگن

ناز اُمت کے ہے یوں کون اُٹھاتا آقا

 

جب سے دیکھا ہے وہ اک شہر، کوئی بھی منظر

تب سے آنکھوں میں نہیں میری سماتا آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ