سوچ سفر

سفر
وہ بھی بس کا
کئی گھنٹوں لمبا
مسافر تھے خاموش بالکل
سبھی نیند میں گم تھے شاید
میں تنہا، اکیلا
کروں تو کروں کیا؟
کہ لمحہ َصدِی تھا
بتائے نہ بیتے
اچانک ہی پھر
دھیان کی سیڑھیوں سے
کسی کی سُجل یاد
اُتری تھی جو زینہ زینہ
سفر کٹ گیا میرا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آخری سپاہی
ایک الزام کے جواب میں کہی گئی نظم
فسادِ بنگال
کاجل
کچی عمر کی چاہت
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
ڈور سے اُڑتی چڑیا کا پَر کٹ گیا
خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے
پیرس
المیہ