اردوئے معلیٰ

سوچ سفر

سفر
وہ بھی بس کا
کئی گھنٹوں لمبا
مسافر تھے خاموش بالکل
سبھی نیند میں گم تھے شاید
میں تنہا، اکیلا
کروں تو کروں کیا؟
کہ لمحہ َصدِی تھا
بتائے نہ بیتے
اچانک ہی پھر
دھیان کی سیڑھیوں سے
کسی کی سُجل یاد
اُتری تھی جو زینہ زینہ
سفر کٹ گیا میرا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ