اردوئے معلیٰ

Search

سکوتِ ذکر تھا صوت و صدا سے دُور نہ تھے

پیمبری کے صحیفے حرا سے دور نہ تھے

 

اتر رہی تھی کچھ ان میں بھی روح سے شبنم

ہمارے ہونٹ جو حرفِ ثنا سے دور نہ تھے

 

بٹھا کے شانوں پہ خوشبو کو لے گئی طیبہ

کھڑے تھے ہم بھی چمن میں صبا سے دور نہ تھے

 

حروفِ عطر فشاں میں تھی بوئے نورانی

حضور پاس تھے مدحت سرا سے دور نہ تھے

 

یہ کائنات تو ان پر بھی ناز کرتی ہے

وہ خوش نصیب جو خیر الوریٰ سے دُور نہ تھے

 

ادائے لطفِ نگہ میں ہی ایسی تابش تھی

کہ دستِ جَور بھی فیضِ حنا سے دور نہ تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ