اردوئے معلیٰ

 

سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے

اے شاہِ ارض و سما جب تِرے دیار میں تھے

 

میں آفتابِ رسالت کے جب طواف میں تھا

بڑے عظیم ستارے مرے مدار میں تھے

 

کھلی جو آنکھ تو بخشش تلاش میں دیکھی

لگی جو آنکھ تو رحمت کی آبشار میں تھے

 

یہ میرا حُسنِ تخیل نہیں حقیقت ہے

تھے سنگ ریزے مگر پاؤں لالہ زار میں تھے

 

دکھایا راستہ سیدھا رسولِ اکرم نے

وگرنہ لوگ سبھی گردِ بے مہار میں تھے

 

یہ معجزے بھی کھُلے تھے منیرؔ نے دیکھا

تھے خاکسار وہاں پر، جو اقتدار میں تھے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات