سید آلِ رضا کا یومِ وفات

آج معروف شاعر اور مرثیہ نگار سید آلِ رضا کا یومِ وفات ہے

سید آلِ رضا(پیدائش: 10 جون 1896ء — وفات: یکم مارچ 1978ء)
——
اردو کے نامور شاعر سید آلِ رضا 10 جون 1896ء کو قصبہ نبوتنی ضلع اناؤ (اودھ) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد خان بہادر سید محمد رضا 1928ء میں اودھ چیف کورٹ کے اولین پانچ ججوں میں شامل تھے ۔
آپ نے ابتدائی تعلیم 1908 سے 1912 تک سیتا پور سکول سے حاصل کی ۔ 1916ء میں کنگ کالج (لکھنؤ) سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1920ء میں الٰہ آباد سے ایل ایل بی پاس کرکے لکھنؤ میں وکالت شروع کی۔ 1921ء میں وہ پرتاب گڑھ چلے گئے جہاں 1927ء تک پریکٹس کرتے رہے۔ 1927ء کے بعد دوبارہ لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔
تقسیم کے بعد پاکستان تشریف لے آئے اور پھر کراچی میں سکونت اختیار کی اورساری عمر اسی شہر میں گزاری۔
سید آلِ رضا کی شاعری کا آغاز پرتاب گڑھ کے قیام کے دوران ہوا۔ 1922ء میں باقاعدہ غزل گوئی شروع کی اور آرزو لکھنوی سے بذریعہ خط کتابت تلمذ حاصل کیا۔ 1929ء میں سید آلِ رضا کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’نوائے رضا‘‘ لکھنؤ سے اور 1959ء میں دوسرا مجموعہ ’’غزل معلی‘‘ کراچی سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام ترصلاحیتیں نوحہ و مرثیہ کے لئے وقف کردیں۔
1939ء میں انہوں نے پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا ’’شہادت سے پہلے‘‘ دوسرا مرثیہ 1942ء میں جس کا عنوان تھا ’’شہادت کے بعد‘‘ یہ دونوں مرثیے 1944ء میں لکھنؤ سے ایک ساتھ شائع ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد نور باغ کراچی میں سید آل رضا نے اپنا پہلا مرثیہ ’’شہادت سے پہلے‘‘ پڑھا اور اس طرح وہ پاکستان کے پہلے مرثیہ گو قرار پائے۔ کراچی کی مجالس مرثیہ خوانی کے قیام میں سید آل رضا کی سعی کو بہت زیادہ دخل ہے۔
وفات:
یکم مارچ 1978ء کو سید آلِ رضا وفات پا گئے۔ کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
سید آلِ رضا از ڈاکٹر سید شبیہہ الحسن
——
سید آلِ رضا کا اصل نام سید آلِ رضا اور تخلض رضا تھا ۔ شعر و سخن سے وابستگی کے بعد آپ رضا نیوتنوی اور بعدہ رضا لکھنوی کے نام سے مشہور ہوئے ۔
آپ سید النسل تھے اور آپ کا نسبی سلسلہ مختلف کڑیوں کے توسط سے حضرت امام علی علیہ السلام سے مل جاتا ہے ۔
آل رضا بچپن سے ہی نہایت ذہین اور فطین واقع ہوئے تھے ۔ آپ کے والد اور والدہ ادب سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے ۔ گھر میں علم و ادب کے چرچے تھے اس لیے آل رضا کا بچپن اس علمی و ادبی فضا میں گزرا ۔ اس عہد کے دستور کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پہ ہی حاصل کی ۔ پھر باقاعدہ تعلیم کے حصول کے لیے آپ کو سیتا پور سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ گھر کی تعلیم و تربیت اور سکول کی ادبی فضا نے رضا میں ذوق علم کو کچھ اور ابھارا اور ان کی تعلیمی دلچسپیوں میں بے پناہ اضافہ کیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
انہوں نے اسکول سے 1912ء میں انٹرنس کی سند امتیازی نمبروں سے حاصل کی ۔ تعلیم کا شوق انہیں کشاں کشاں لکھنؤ لے گیا اور آپ نے لکھنؤ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ آپ نے 1916ء میں بی اے کی سند امتیازی نمبروں سے حاصل کی ۔
آل رضا شروع سے ہی والد ماجد کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے اور ان کے پیشے کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ ان کی دلی تمنا تھی کہ وہ ان کا پیشہ اختیار کریں ۔ آپ نے 1918ء میں نیو سنٹرل کالج الہ آباد میں داخلہ لیا اور 1920ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے لکھنؤ میں وکالت شروع کر دی ۔
1947ء میں برصغیر کی تقسیم کا عمل وقع پذیر ہوا ۔ آل رضا کو لکھنؤ سے بے پناہ محبت تھی اور وہ لکھنؤ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے ۔
بہر حال اپنے بھائیوں کے پر زور اصرار پر لکھنؤ سے کراچی تشریف لے آئے ۔ کراچی میں اگرچہ لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے اصحاب کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن آل رضا عمر بھر اس لکھنوی فضا کو یاد کرتے رہے جس کے وہ پروردہ تھے ۔
ان اشعار کے ان کی ذہنی کشمکش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
——
یوں تو بیتابی میں اس محفل سے اٹھ جانا پڑا
کیا کہوں پھر کیا ہو ، جب دل کو سمجھانا پڑا
موت ہی جس کو چھڑا سکتی تھی وہ دلکش دیار
یوں چھٹا ہم سے کہ ہم کو خود ہی چھوڑ آنا پڑا
وہ وداعی مرحلے ، وہ عمر بھر کے سلسلے
دھوکے دے دے کر ، نگاہ و دل کو بہلانا پڑا
وقت نازک ، رشتۂ الفت کے پھندے جا بہ جا
گتھیوں کو کانپتے ہاتھوں سے سلجھانا پڑا
گھر چھٹا ، گھر کی فضاؤں کی جمی محفل چھٹی
اپنے بیگانے ہوئے ، غیروں کو اپنانا پڑا
——
کراچی میں بھی آل رضا نے وکالت کا پیشہ جاری رکھا ۔
آل رضا یہاں کی علمی ، ادبی ، سیاسی اور تہذیبی فضا سے مطمئن نہ تھے یا یوں کہیے کہ یہ فضا ان کے حسب حال نہ تھی ۔ یہی سبب ہے کہ وہ رفتہ رفتہ گوشہ نشین ہو گئے ۔
ان کی شگفتہ مزاجی اور زندہ دلی کم ہوتے ہوتے بالکل معدوم ہو گئی اور وہ اپنی زندگی کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ۔
اس گوشہ نشینی کے باوجود علم و ادب کے لیے ان کی کوششیں برابر جاری رہتی تھیں ۔
چنانچہ آپ نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور غزل کی شمع اور مرثیہ کے چراغ کو اپنا خون دے کر روشن کیا۔
آل رضا آخری عمر میں نزلہ ، زکام اور کھانسی جیسے معمولی مرض میں مبتلا ہو گئے تاہم کسے معلوم تھا کہ یہ مرض جان لیوا ثابت ہوں گے ۔
اسی طرح یہ معروف غزل گو ، ممتاز مرثیہ نگار اور صاحبِ طرز شاعر سید آل رضا جمعرات یکم مارچ 1978 کو رحلت فرما گئے ۔
سید آفتاب کاظمی کا یہ قطعہ آل رضا مرحوم کی رحلت کی صحیح عکاسی کرتا ہے :
——
جناب رضا کا بیاں اللہ اللہ
ہوئے کیسے جنت مکاں اللہ اللہ
تھا قرآن ہاتھوں پہ اور لب پہ کلمہ
یہ مومن کے مرنے کی شان اللہ اللہ
——
منتخب کلام
——
رات اتنی گئی ہے کہ وہ کیا آئیں گے ، لیکن
اب گھر کے چراغوں کو بجھایا نہیں جاتا
——
اب ان کے سامنے یہی دستور ہو گیا
کچھ کہنے ہی چلا ہوں کہ مجبور ہو گیا
اس زخم کا علاج کرے گا زمانہ کیا
جو اہلِ دل کے قلب کا ناسور ہو گیا
——
ناصحو رکھا ہے کیا ، اپنے اس افسانے کا نام
ہوش اڑا دینے کی باتیں اور سمجھانے کا نام
کارفرمائی جنونِ عشق کی ، یہ بھی تو ہے
ان کے دروازے پر لکھ دو ، ان کے دیوانے کا نام
——
آگاھئ رموز ھے خود پردہ دارِ حسن
میں کچھ سمجھ چلا تھا کہ دیوانہ ھو گیا
کیوں ھنس کے کہ دیا ” مرے در کا فقیر ھے ”
میرا مزاج اور بھی شاھانہ ھو گیا
——
زندگی ختم جہاں کی وہ جگہ پھر نہ ملی
تیرے کوچے سے اٹھائے لئے جاتے ھیں مجھے
——
دفعتاً جا کے پھر نہ پلٹی نگاہ
کششِ حسن ، اے معاذا اللہ
پہلا آنسو گرا جو الفت میں
درد اٹھ کر پکارا ” بسم اللہ ”
——
دماغ عرش پر ھے تیرے در کی ٹھوکر سے
نصیب ھوتا جو سجدہ ، تو میں کہاں ھوتا
——
جنون بن کے محبت کا اعتبار اٹھا
جو ھنس رھے تھے وھی لوگ معتبر ٹھہرے
بغیر ان کے ادھر کیا ھے زندگی کیلئے
زمانہ بھر کے سہارے تو سب ادھر ٹھہرے
چراغ کتنے نڈر تھے شبِ جوانی کے
ھوا کے رخ پہ جلے اور رات بھر ٹھہرے
——
مرحبا خوب کیا رنج سے آزاد مجھے
یوں مٹایا ھے کہ مٹنا بھی نہیں یاد مجھے
تم، وہ تم ھی نہ رھو ، بھول سکوں گر تم کو
میں ، وہ میں ھی نہ رھوں ، تم جو کرو یاد مجھے
——
ھائے کیا وقت تھا کیا کیف تھا کیا عالم تھا
جب تیرے لب پہ میرا پہلے پہل نام آیا
ھم گئے جان سے اور ضد نہ جوانی کی گئی
کھا لیا تیر کلیجہ پہ ، تو آرام آیا
——
یوں کربلا میں ایک مسلمان آ گیا
کچھ سورتیں لیے ہوئے قرآن آ گیا
مومن ہی صرف آئے نہ تھے اس جہاد میں
معلوم ہو رہا تھا کہ ایمان آ گیا
آیت بنا وہ حسنِ عمل کے نزول کی
دل میں مجاہدوں کے جو ارمان آ گیا
— ق —
کوہِ ثبات تھے قدمِ نوحِ احمدی
مذہب لرز اٹھا تھا کہ طوفان آ گیا
یوں آ گئے تھے حسین ہتھیلی پہ سر لیے
اسلام جی اٹھا کہ نگہبان آ گیا
انسانیت پکاری بہ نازِ حسینیتـ
کس منزلِ بلند پہ انسان آ گیا
جان و دلِ رضاؔ ہے عقیدت کی یہ کشش
دل کی طرح حسین پہ ایمان آ گیا
——
مسلماں بن رہے ہیں ، کفر سامانی نہیں جاتی
وہی مذہب ہے لیکن شکل پہچابی نہیں جاتی
ولا عترت کی ، کیا شائستہ قرآں بناتی ہے
کہ طعنے سن کے بھی تہذیبِ قرآنی نہیں جاتی
خدا کے بعد ذاتِ مصطفیٰ پھر وہ جسے کہہ دیں
یہ ہے گویا ہماری بات ، جو مانی نہیں جاتی
نہ سمجھیں لوگ آلِ مصطفیٰ کو ہم خفا کیوں ہوں
وہاں تک عام سطح عقلِ انسانی نہیں جاتی
یزیدی دامنوں کو دھونے والے کچھ کہیں لیکن
پریشانی تو کہتی ہے ، پشیمانی نہیں جاتی
جو ہم اہلِ عزا ، اس بزم میں خاموش بھی بیٹھیں
نگاہوں کی مسلسل مرثیہ خوانی نہیں جاتی
معاذ اللہ ، مجلس اور دل کی تنگ دامانی
کبھی خالی ، سبیلِ اشک افشانی نہیں جاتی
کہیں ڈانڈے حق و باطل کے ملتے ہیں تو ملتے ہوں
ادھر سے ہو کے اپنی راہِ ایمانی نہیں جاتی
وہاں ہے منزلِ یکتائی ، ایثارِ شبیری
جہاں تک دوسری تنظیمِ قربانی نہیں جاتی
شکایت مُنکرِ سجدہ کو جتنی بھی رہے ، کم ہے
کہ خاکِ کربلا کی سجدہ سامانی نہیں جاتی
شہادت نے یہ کہہ کر لے لیا آغوشِ سرور سے
چلو اصغر ، تمہاری بات اب مانی نہیں جاتی
اسی فقرہ میں کتنے مرثیے زینب نے کہہ ڈالے
ارے بھیا ، تمہاری شکل پہچانی نہیں جاتی
رضاؔ پھیرے کیے جاؤ ، درِ آلِ محمد کے
کہیں کی خاک اس انداز سے چھانی نہیں جاتی
——
حوالہ جات
——
کتاب : باقیاتِ آل رضا از ڈاکٹر شبیہہ الحسن
شائع شدہ 2000 ء ، صفحہ نمبر : 25 تا 34
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ