شاہِ خوباں کی جھلک مانگنے والی آنکھیں

شاہِ خوباں کی جھلک مانگنے والی آنکھیں

ان کی دہلیز پہ رکھ دی ہیں سوالی آنکھیں

 

بھیک بٹتی ہوئی دیکھی تھی سرِ بزمِ کرم

تشنۂ دید تھے کشکول بنالی آنکھیں

 

ایسی آنکھوں کو ملائک نے دیئے ہیں بوسے

دیکھ لیتی ہیں جو سرکار کی جالی آنکھیں

 

ایک دیدار کی حسرت میں ابھی روشن ہیں

رو رو بے نور نہ ہو جائیں غزالی آنکھیں

 

جن میں بس جلوۂ سرکارِ دو عالم ہوتا

میرے چہرے پہ بھی ہوتیں وہ بلالی آنکھیں

 

جب بھی ویرانیاں گھر کرنے لگیں آنکھوں میں

نقشِ نعلین کی طلعت سے سجالی آنکھیں

 

جب وہ گزریں گے تو دیکھیں گی انہیں جی بھر کے

راہِ سرکار میں ناعت نے بچھالی آنکھیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات