اردوئے معلیٰ

نامی انصاری کا یومِ وفات

آج اردو کے مشہور شاعر اور ادیب نامی انصاری کا یومِ وفات ہے۔

رحمت اللہ نامی انصاری(پیدائش: 31 جنوری، 1930ء- وفات: 10 جنوری، 2010ء)
———-
رحمت اللہ نامی انصاری 31 جنوری 1930ءکو پیدا ہوئے تھے۔ اُن کاآبائی وطن اُتر پردیش کا مردم خیز قصبہ جائس (ضلع رائے بریلی) تھا۔
اُن کے والد بھی شاعر تھے جو مولوی محمد بخش مفتوں جائسی کے نام سے معروف تھے۔ نامی انصاری نے ملازمت کے سلسلے میں ایک مدت کانپور میں گزاری اور اسی شہر سے ادبی دُنیا میں اُنہوں نے اپنی ایک شناخت بھی بنائی۔
وہ جواں عمری ہی میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے تھے اور اپنی اس وابستگی کو اُنہوں نے آخر تک قائم رکھتے ہوئے وضع داری کو تقویت بخشی۔ انہوں نے شاعری بھی کی، تنقیدی مضامین بھی لکھے۔ اُن کے نام ِنامی سے اُردوکی ادبی دُنیا اچھی طرح واقف ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہند ۔ پاک کے اکثر موقر رسائل میں تواتر سے چھپتے رہے ہیں۔
نامی انصاری خاصے متحرک قلم کار اور قاری تھے ان کی ایک خاص بات جو نئی نسل کےلئے کسی سبق سے کم نہیں کہ وہ اپنے دیار میں اُن گنتی کے چند لوگوں میں سے تھے جولکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھنے پر بھی بھرپور توجہ دیتے تھے ۔
نامی انصاری نے ارضِ ادبِ اطفال میں بھی اپنے فن کے پھول کھلائے۔ سمندری لڑکا ،بچوں کے نہرو اورتینالی رمن کی کہانیاں اُن کی ترجمہ نگاری کا بہترین نمونہ ہیں۔
ان کے دو شعری مجموعے برگ ِسبز اور روشنی اے روشنی 1980 اور1994 ءمیں طبع ہوئے تھے۔ لیکن جس کام سے ان کا ایک ادبی وقار قائم ہوا وہ’ آزادی کے بعد اُردو نثر میں طنز و مزاح‘ تھا ۔
تحقیق و تنقید کی اس کتاب کی مقبولیت کا یہ ثبوت ہے کہ اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے نیز’ بیسویں صدی میں طنز و مزاح‘ کے نام سے بھی ان کی ایک کتاب 2002ءمیں منظر عام پر آچکی ہے۔ دیا نرائن نگم اور مرزا فرحت اللہ بیگ کا مونو گراف بھی اُنہی کا مرتب کردہ ہے جسے ساہتیہ اکادیمی نے شائع کیا۔ ’ لہروں کے درمیان‘ اُن کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے
ان کی ادبی خدمات کے پیشِ نظر میر ایوارڈ اور امتیاز ِمیر ایوارڈ جیسے اعزاز انھیں دیے گئے اور 1999ءمیں وزیر اعظم کے ہاتھوں بھی انھیں ایک ایوارڈ تفویض کیا گیا تھا۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر آزاد انصاری کا یوم پیدائش
———-
اردو کے مشہور و ممتاز ترقی پسند ادیب و شاعر نامی انصاری 10 جنوری 2010ء کو کانپور میں اِنتقال کر گئے تھے۔
———-
فنکارانہ جمال کی شاعری از ڈاکٹر عنوان چشتی
———-
نامی انصاری اردو کے ان مخلص اور محتاظ شاعروں میں شامل ہیں جنہوں نے نمود و نمائش اور صلہ و ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر عروسِ سخن کی زلفیں سنواری ہیں اور اپنے خونِ جگر سے آئینہ خانۂ شعر کو زینت بخشی ہے ۔
اسی ریاضت اور اخلاص نے ان کی شاعری کو وہ کیفیت عطا کی ہے جس کو فنکارانہ جمال کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
یہ فنکارانہ جمال نامی انصاری کی شاعری میں دو صورتوں میں جلوہ گر ہے ۔ ایک ہیئیت کے جمال کی شکل میں اور دوسرے معنویت کے حسن کی صورت میں۔
جہاں تک ہیئیت کے جمال کا تعلق ہے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے غزل کے فنی تقاضوں کو بوجوہِ احسن پورا کیا ہے اور اپنے تخلیقی تجربوں کو ایسی زبان عطا کی ہے جو صدیوں کی مشاطگی کے بعد مہذب ترین شعری زبان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
انہوں نے الفاظ کے مجرد استعمال سے لیکر استعارہ سازی تک اسی مہذب شعری زبان کو وسیلۂ اظہار بنایا ہے ۔ رہی معنویت کے جمال کی بات ، سو ان کی شاعری کے سرسری مطالعے سے ہی اس کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ نامی انصاری نے زندگی کی کربناک حقیقتوں کو رومانی انداز میں بیان کیا ہے۔
ان کی شاعری میں ایک طرح کی قوتِ شفا موجود ہے اور ان کی شاعری کو یہ قوتِ شفا اخلاقی اور تہذیبی اقدار نے بخشی ہے۔
انہوں نے اپنے رنگ افشاں جذبات ، مجروح آرزوؤں اور پیچیدہ نفسیاتی کیفیتوں کا بڑی دل آویزی کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ یہی دونوں خوبیاں ان کی شاعری کے لیے سرمایۂ ناز ہیں ۔ میرے اس خیال کی مزید وضاحت ، زیرِ نظر مجموعۂ کلام کے مطالعے سے بخوبی ہو جائیگی تاہم بطورِ مثال چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔
———-
پتھروں کے سوداگر آئینوں سے لڑتے ہیں
وقت کی صلیبوں پر خوں ہوا ہزاروں کا
———-
نہ جانے کون سی مٹی میں جا کے جذب ہوا
ہمارے قطرۂ خوں کا حساب تک نہ ملا
———-
ہوائے تند غبارِ سحر کو چاٹ گئی
فصیلِ شب پہ چمکتا رہا ، لکھا میرا
———-
خود اپنی حقیقت سے بیزار ہے یہ دنیا
اس دور سے کیا چاہیں ، اس عہد سے کیا مانگیں
اب خونِ رگِ جاں بھی قاصر ہے چہکنے سے
اربابِ جنوں کس سے جینے کی ادا مانگیں
———-
نہ گُل کھلے نہ کہیں خواب کی دھنک ٹوٹی
چمن چمن میں یونہی صبح و شام ہوتی رہی
———-
نامیؔ غبارِ فکر و نظر چَھٹ گیا تو کیا
مانگے ہوئے اُجالے نقیبِ سحر نہ تھے
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر آزاد انصاری کا یوم وفات
———-
زندگی کے نو بہ نو تجربوں اور بے نام جذبوں کو ایک دلآویز شکلِ اظہار دینے کے لیے جس ریاضت اور رچاؤ کی ضرورت ہوتی ہے وہ نامی انصاری کی شاعری میں فراوانی کے ساتھ موجود ہے ۔
———-
منتخب کلام
———-
جس دور میں انصاف کی آواز دبی ہو
کیا فائدہ اس دور میں فریاد و فغاں سے
———-
میرے اندر بھی اندھیرا ہے بہت
روشنی ! اے روشنی ! میری طرف
———-
میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
———-
جوہری کے پاس آ جائے تو جنسِ بے بہا
دستِ بے توقیر میں ہیرے کا ٹکڑا کچھ نہیں
———-
فُرصت ملے تو میں بھی کوئی مرثیہ لکھوں
اک دشتِ کربلا مری تنہائیوں میں ہے
———-
لوٹ کر واپس کہاں جائیں گے اب یہ فاصلے
ہر قدم پر ہے اسی کا راستہ لکھا ہوا
———-
کتنے چہرے ہیں مرے گرد سوالوں کی طرح
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
———-
یہ بھرم تھا کیسا کہ آگ میں مجھے حرفِ نم کی تلاش تھی
نہ صدف ملا نہ گُہر ملا، مرے ہاتھ مُفت میں جل گئے
مجھے فکرِ تازہ کی جستجو ، انہیں صرف داد کی آرزو
کئی بار بزمِ سُخن جمی ، کئی لوگ پڑھ کے غزل گئے
———-
اخلاق سے ہو گئی عاری دنیا
سر تا بہ قدم ہے کاروباری دنیا
مہلک ہے بہت جوہر انساں کا زوال
کس جال میں پھنس گئی ہماری دنیا
———-
اے صاحب زر امیر اعلیٰ تو کون
آتا ہے خیال لا محالہ تو کون
جو کچھ بھی ملے عطائے قدرت سے ملے
انعام مجھے دینے والا تو کون
———-
تدبیر شفا کسے بتائے کوئی
جھوٹے وعدوں پہ کیوں پھنسائے کوئی
غواص ہی بیری ہو سمندر سے اگر
سچے موتی کہاں سے لائے کوئی
———-
یہ بھی پڑھیں : شاعر اختر انصاری دہلوی کا یوم وفات
———-
اک شمع سر راہ جلی خیر ہوئی
تشویش کی حاجت نہ رہی خیر ہوئی
کمزور سہی مگر اجالا تو ہوا
توقیر حیات بڑھ گئی خیر ہوئی
———-
پتھروں کا کھیل جاری ہے سروں کے درمیاں
زندگی ٹھہرے کہاں ان وحشتوں کے درمیاں
بزم ناؤ نوش کا یہ شور و غل اپنی جگہ
کوئی نغمہ زیرِلب،اونچے سُروں کے درمیاں
میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا
فرق آ جاۓ گا لیکن دوستوں کے درمیاں
وقت کے سیلاب نے سب کچھ مٹا کر رکھ دیا
ایک چھپر بھی نہیں باقی گھروں کے درمیاں
فلسفہ، مذہب ، سیاست ، خودپرست، برہمی
راستہ ملتا نہیں ان جنگلوں کے درمیاں
اپنی پرسش آپ ہی کرتے رہیں گے عمر بھر
اعتبارِ فن کہاں صورت گروں کے درمیاں
کس کا نقش ناز یارب!میرے دل پر ثبت ہے
کوئی صورت خوش نہ آۓ مہ وشوں کے درمیاں
یہ زمینِ گل بہ داماں شعلہ رو کب ہوئی
کوئی کتبہ مل گیا پتھروں کے درمیاں
ان کا اک حرفِ سخن بھاری مرے دیوان پر
میں کہ ٹھہرا پستہ قد خوش قامتوں کے درمیاں
———-
ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے
اس کے سوا کچھ اور بھی گہرائیوں میں ہے
فرصت ملے تو میں بھی کوئی مرثیہ لکھوں
اک دشتِ کربلا مری تنہائیوں میں ہے
کس شہر میں تلاش کریں رشتہء وفا
سنتے تو ہیں پرانی شناسائیوں میں ہے
دریا کے زور و شور پہ باتیں ہزار ہوں
پانی مگر وہی ہے جو گہرائیوں میں ہے
گُھل جاۓ شعر میں تو زمیں آسماں بنے
وہ حسنِ لازوال جو سچائیوں میں ہے
بیاکر اس کو اہلِ وفا میں گنا گیا
نامیؔ کہاں سے آپ کے شیدائیوں میں ہے
———-
یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ میں سفر میں رہوں
ہزار کوس چلوں پھر بھی اپنے گھر میں رہوں
نہ پتھروں سے مری دوستی نہ شیشوں سے
کہاں قیام کروں کس کی رہگزر میں رہوں
یہ معجزہ بھی تو ممکن نہیں زمانے میں
کہ اشک بن کے تری چشمِ معتبر میں رہوں
مجھے بھی تنگ لگے ہے یہ شہرِ ناپُرساں
عجیب نہیں کہ کسی دشتِ پُرخطر میں رہوں
پھر اس کے بعد وہی چشم و دل کی حیرانی
تمام عمر اگر کاوشِ ہنر میں رہوں
ہزار خون بہے میرے آرپار مگر
زباں سے کچھ نہ کہوں اپنے بال و پر میں رہوں
نہ خلعتوں نہ خطابوں کی آرزو نامیؔ
یہی بہت ہے کہ احباب کی نظر میں رہوں
———-
یہ بھی پڑھیں : مشہور شاعر اور ادیب نامی انصاری کا یومِ وفات
———-
نظر ملی تھی کسی بے خبر سے پہلے بھی
صدائے تشنہ اٹھی تھی جگر سے پہلے بھی
یہ سحر کم ہے کہ شاداب ہو گیا صحرا
بہے تھے اشک بہت چشم تر سے پہلے بھی
نیا نہیں ہے تقاضائے شیشہ و تیشہ
گزر چکا ہوں میں اس درد سر سے پہلے بھی
میں خاک چھاننے والا سواد صحرا کا
پڑے تھے پاؤں میں چھالے سفر سے پہلے بھی
حصار لفظ و بیاں میں نہ رہ سکا نامیؔ
کہ آشنا تھا مقام ہنر سے پہلے بھی
———-
خاک اغیار سے یا رب مجھے پیوند نہ کر
مجھ کو ان چاند ستاروں میں نظر بند نہ کر
ایک ہی بار چھلک جانے دے پیمانہ مرا
لمحہ لمحہ مجھے آزردہ و خورسند نہ کر
تجھ کو پہچان لیں یا تجھ کو خدا کہہ بیٹھیں
اپنے دیوانوں کو اتنا بھی خرد مند نہ کر
شہر دلی تو امانت ہے مرے پرکھوں کی
اس کو بے رنگ و صدا مثل سمرقند نہ کر
واہمہ ہو تو کبھی حرف یقیں تک پہنچے
کچھ نہ ہو جب تو حکایات قلم بند نہ کر
عشق آساں ہے مگر روگ ہے دیوانوں کا
بار غم یوں ہی بہت ہے اسے دو چند نہ کر
کیا خبر کب یہ اتر جائے رگوں میں نامیؔ
زہر کو زہر ہی رہنے دے اسے قند نہ کر
———-
مجھے کل ملا جو سر چمن وہ تمام نخل شباب سا
کوئی بات اس کی شراب سی کوئی حرف اس کا گلاب سا
جسے زندگی نہ بھلا سکے جسے موت بھی نہ مٹا سکے
وہی میں ہوں غالبؔ خستہ جاں وہی میرؔ خانہ خراب سا
وہ تمام گرد فنا ہوئی مرے جسم و جاں پہ جو بار تھی
تری اک نظر میں سمٹ گیا مرے سر پہ تھا جو عذاب سا
وہی ایک منظر خوش ادا کہیں نقش میں کہیں رنگ میں
وہی اس کی زلف غزل نما وہی اس کا چہرہ کتاب سا
کوئی بات اس میں ضرور تھی جو مرے خیال میں رہ گئی
اسے کیوں فریب نظر کہوں جسے میں نے دیکھا تھا خواب سا
دل ناصبور کے واسطے کوئی نقش ناز بچا نہیں
یہ جہان تازہ یہ عصر نو جسے دیکھیے تہہ آب سا
عجب اتفاق تھا نامیؔ یہ کہ ہوئے بہم بھی تو کیا ہوئے
نہ شکستہ کوئی مری طرح نہ گرفتہ کوئی جناب سا
———-
عنوان چشتی نئی دہلی ۔ 29 اکتوبر 1980 از برگِ سر سبز صفحہ نمبر 7 -9
ٹائپنگ اور انتخاب اردوئے معلیٰ انتطامیہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ