اردوئے معلیٰ

شاہ نواب ملا جس کو غسالہ تیرا

ماہ و خورشید پہ ہنستا ہے وہ ذرہ تیرا

 

اب بھی ازبر ہے اسے چہرۂ زیبا تیرا

دل مرا پڑھتا ہے دن رات قصیدہ تیرا

 

رات تاریک تھی لمحات تھے صدیوں جیسے

آگئی بادِ صبا نام جو سوچا تیرا

 

اٹھ نہیں سکتا کہیں اور مرا دست سوال

خوان رحمت سے ترے پاؤں نوالہ تیرا

 

نکہتیں تیری دماغوں میں بسی ہیں اب بھی

معترف اے گل خوبی ہے زمانہ تیرا

 

رہبری کرتا ہے ہر راہ پہ آتے جاتے

دل کی دنیا میں چمکتا ہے ستارہ تیرا

 

روشنی اتنی تو پہلے کبھی دیکھی نہ گئی

چاند ہے یا شہ نواب دریچہ تیرا

 

میری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہے

اب تو بس میں ہوں گلی تیری ہے کوچہ تیرا

 

میرے نواب ترے ایک تبسم کے طفیل

خانۂ دل میں بکھرتا ہے اجالا تیرا

 

اور بھی بانٹنے والے ہیں زمانے میں مگر

منفرد ہے شہ نواب طریقہ تیرا

 

آتی جاتی ہوئی سانسوں سے تری بات کرے

کس قدر نورؔ کو مرغوب ہے چرچا تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات