شب غم میں سحر بیدار کر دیں

 

شب غم میں سحر بیدار کر دیں
کرم کی اِک نظر سرکار کر دیں

 

رواں ہیں کشتیاں سوئے مدینہ
بھنور سے میرا بیڑا پار کر دیں

 

حصارِ جاں نوازی میں ُبلا لیں
مقدر سایۂ دیوار کر دیں

 

رہیں میرے افق پر چاند بن کر
منوّر عالمِ افکار کر دیں

 

زیاں کے اس مسافر کو بھی آقا
صراطِ خیر کا رہوار کر دیں

 

جہانِ مصلحت کوشاں میں ہوں میں
صداقت کو مرا معیار کر دیں

 

مرے آقا، صبیحؔ بے ہنر کو
عطا کچھ نعتیہ اشعار کر دیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ