اردوئے معلیٰ

شجر حیاتِ دو روزہ کا یوں ہرا کر دے

کہ پَتَّہ پَتَّہ فضاؤں کو خوشنما کر دے

 

وہ عزم اُمتِ خیرالوریٰ کو حاصل ہو

نفاذِ دین کا دنیا میں حق ادا کر دے

 

فضائے دہر پہ باطل کی حکمرانی ہے

ضیائے حق سے ہر اک روح کی جِلا کر دے

 

یہ حکمراں جو بظاہر بڑے مسلماں ہیں

اِنہیں ضمیر کی دولت بھی کچھ عطا کر دے!

 

کسی کو وصفِ عمرؓ دے کے میرے رب اب تو

علیل اُمتِ مسلم کی کچھ دوا کر دے

 

جو لوگ دین سے برگشتہ ہیں زمانے میں

اُنہیں محبتِ دینِ مبیں عطا کر دے

 

جو لوگ حبِ دَوَل میں ہیں مبتلا یارب!

اُنہیں حقیقتِ دنیا سے آشنا کر دے

 

وہ مردِ حق بھی کبھی بھیج میری دنیا میں

جو انقلابِ حقیقی یہاں بپا کر دے

 

یقیں کی دولتِ بیدار وہ مُیسر ہو

جو سِجْنِ وہم و گماں سے ہمیں رِہا کر دے

 

شجر دعاؤں کا اب تک ہے بے ثمر یارب!

اب ان دعاؤں کو شیریں ثمر عطا کر دے!

 

دکھے دلوں کی دعائیں قبول فرما کر

ہماری کِشتِ وطن کو ہرا بھرا کر دے!

 

شکستہ دل کی دعا مستجاب ہو یارب!

دلِ عزیزؔ کو اوہام سے رِہا کر دے

 

دعائے یومِ آزادی:جمعرات: ۱۷؍شوال المکرم ۱۴۳۵ھ…مطابق: ۱۴؍اگست ۲۰۱۴ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات