اردوئے معلیٰ

Search

شعر کہنا اختیاری فعل ہو تو ترک ہو

دل کو لاحق ہے ازل سے عارضہ تخلیق کا

 

ضرب کھانے سے جمع ہوتی ہے وحشت اور بھی

ہے سخن ممنون ہر تقسیم کا ، تفریق کا

 

کرب سہنے کی عجب توفیق حاصل ہے مجھے

اور دل طالب ابھی ہے اور بھی توفیق کا

 

بھید کھلنے پر سوا ہوتی ہے دل کو سنسنی

دفعتاً کھلتا ہے در جیسے نئی تحقیق کا

 

میں کسی اگلے زمانے سے ہوں محوِ گفتگو

منتظر اک معجزہ ہے وقت کی تصدیق کا

 

شاعری کا عشق اپنے آپ میں معراج ہے

میں نہیں محتاج تیرے فہم کی توثیق کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ