شعور و آگہی، فکر و نظر دے

شعور و آگہی، فکر و نظر دے

خداوندا مجھے اپنی خبر دے

 

تری رحمت کے بادل کھل کے برسیں

مری آہوں، دعاؤں میں اثر دے

 

ہیں جن پر کوہِ غم ٹوٹے خدایا

کرم کی اک نظر اُن پر بھی کر دے

 

خداوندا حرم تک میں بھی جاؤں

عطا کر بال و پر، اذنِ سفر دے

 

ترے محبوبؐ کے در کا گدا ہوں

کرم فرما، مرا کشکول بھر دے

 

میں مانگوں عشق محبوبِ خداؐ کا

تُو مجھ کو سیم و زر نہ کرّوفر دے

 

فروزاں ہو جو اُنؐ کے نقشِ پا سے

ظفرؔ کو یا خدا! وہ رہگزر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ
میرے اشکوں میں مری فریاد، دل برسائے گا
حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا
خدا کا شُکر کرتا ہوں، خدا پر میرا ایماں ہے
خدا اعلیٰ و ارفع ہے، خدا عظمت نشاں ہے
حرم کے سائے میں سارے مسلماں رُوبرو بیٹھیں
خدا کے حمد گو جنگل بیاباں
جو احکامِ خدا سے بے خبر ہے