اردوئے معلیٰ

شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے

ہم تھے قارونِ تخیل کے نگیں، دفن ہوئے

 

تیری متروک شریعت کے فراموش خدا

دل کی تاراج زمینوں میں کہیں دفن ہوئے

 

ہم ہمیشہ کے لیے خاک کیے جاتے ہیں

ہم خزانوں کی طرح سے تو نہیں دفن ہوئے

 

شعر دربار میں موجود رہے دو زانو

تاجدارانِ سخن تخت نشیں دفن ہوئے

 

تُو کہ افلاک سے اترا تھا وہیں لوٹ گیا

ہم اسی خاک سے ابھرے تھے یہیں دفن ہوئے

 

دھنس گئیں ریت میں خواہش کی عبادت گاہیں

سر بسجدہ تھے جہاں خواب وہیں دفن ہوئے

 

مرگ اتری ہے دلِ زار میں زینہ زینہ

مرحلہ وار سبھی دل کے مکیں دفن ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات