شوقِ اظہارِ عقیدت

نعت لکھنے کے لیے
پاکیزگی درکار تھی
میں سراپا معصیت
اِس وادیٔ ایمن کی صورت
نور سے معمور قریئے میں
قدم رکھتا تو کیسے؟
مجھے اپنے گناہوں کے
اِسی احساس نے…برسوں
مدیحِ شاہِ طیبہ کی سعادت سے جدا رکھا
مگر دل کے نہاں خانے میں
پیہم
شوقِ اظہارِ عقیدت
موج زن تھا
پھر اِک دن یوں ہوا
میں مدحتِ آقا کی وادی میں چلا آیا

 

نہیں معلوم!
میں لایا گیا…یا خود ہی آیا تھا؟
مگر اِتنا سنا ہے
اِس حسیں وادی میں آنا
اِذنِ شاہِؐ بحر و بر
کے بعد ممکن ہے
سو اب یہ جان کر
میں مدحتِ آقا میں
اکثر شعر کہتا ہوں
بہت ممکن ہے!
کوئی شعر… آقاؐ کو پسند آ جائے
میری معصیت سے پُر
حیاتِ بے ثمر
حسنِ عمل سے آشنا ہو جائے
پھر، حرفِ تمنا
نور کے سانچے میں ڈھل جائے
مری قسمت بدل جائے!!!
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
سلام نقشِ اوّلیں
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
اصحابؓ النبی
وہ کہ ہیں خیرالا نام
نور دے کر، یاشفیقؒ و مشفقِ من، خواب کو
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا

اشتہارات