ضیائے مہر و مہ و کہکشاں جہاں سے ہے

 

ضیائے مہر و مہ و کہکشاں جہاں سے ہے

خوشا نصیب کہ نسبت مجھے وہاں سے ہے

 

خدا نے خود انھیں اپنا شریکِ اسم کیا

رحیم کہنا انھیں شرک پھر کہاں سے ہے ؟

 

حضور خود جو بہ نفسِ نفیس ہیں موجود

مدینہ اس لیے ذی شان کل جہاں سے ہے

 

جہاں پہ سر کو جھکاتے ہیں قدسیانِ فلک

مری بھی نسبت اُسی کوئے مہرباں سے ہے

 

گدائے کوچۂِ سلطانِ دو جہاں ہوں میں

زمین پر ہوں مگر ربط آسماں سے ہے

 

غلامِ شاہِ مدینہ یہ بات جانتے ہیں

وہیں سے اٹھّے گا ، نسبت جسے جہاں سے ہے

 

عطا ہوا ہے قرینہ جو نعت گوئی کا

مرا کمالِ سخن بس اسی بیاں سے ہے

 

رسولِ پاک سے نسبت ہے شہرِ طیبہ کو

زمیں کا خطّہ ہے ، برتر پہ آسماں سے ہے

 

گناہگاروں کی بخشش ہو یا صراط کا پُل

نجاتِ دائمی دانش بس اُن کی "ہاں” سے ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات