طاقِ نسیاں سے اُتر ، یاد کے دالان میں آ

طاقِ نسیاں سے اُتر ، یاد کے دالان میں آ

بھولے بسرے ھوئے اے شخص ! مرے دھیان میں آ

 

عین مُمکن ھے کہ ھو جائے جو نامُمکن ھے

تُو کسی روز مرے حلقۂ امکان میں آ

 

آج کے بعد اگر آیا تو کیا آیا تُو

تجھ کو آنا ہے مری جان تو اِس آن میں آ

 

یار تاخیر سے آئے ہیں مگر آ تو گئے

زندگی! پھر سے مرے پیکرِ بے جان میں آ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرا رنگ و روپ مہکا کسی ماہرو کے صدقے
کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک
داستانِ پُراسرار: گوروں کے دیس کے مُشاعرے
سکوت ِشام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں
خلقتِ شہر بھلے لاکھ دُھائی دیوے
الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے
موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے
کوئی میرے اشک پونچھے ، کوئی بہلائے مجھے
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا