طلوعِ صبح کا عنوان ہے علی اکبر

طلوعِ صبح کا عنوان ہے علی اکبر

شبیہِ صاحبِ قرآن ہے علی اکبر

 

مہک رہا ہے گلستانِ آلِ سرور میں

وہ باغِ نور کا ریحان ہے علی اکبر

 

بوجہِ عکسِ محمد، بوجہِ خونِ علی

جہانِ حسن کا سلطان ہے علی اکبر

 

حسین ابنِ علی کا یہ لاڈلا بیٹا

کریم ذات کا احسان ہے علی اکبر

 

حسینِ پاک، علی، فاطمہ کے دل کا سکوں

امینِ الفتِ خاصان ہے علی اکبر

 

خدا کے دین پہ ہو کر فدا لڑکپن میں

حریمِ خلد کا مہمان ہے علی اکبر

 

ملا ہے جس کے مناقب سے روشنی کا وفور

وہ آلِ نور کا ذیشان ہے علی اکبر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
دین نبی کی شمع جلاتے ہیں غوث پاک
مالکِ ارض و سما ہے ذات تیری بے عدیل
قبلۂ اہلِ نظر کوچہ شہِ نوّاب کا
معرفت کے باب کا عنوان ہیں نواب شاہ
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے
حاصل ہے مجھ کو نعت کا اعزاز یا نبیؐ

اشتہارات