طیبہ کی ہر گلی کو ، فضا کو ، بہار کو

طیبہ کی ہر گلی کو ، فضا کو ، بہار کو

اے کاش میں بھی دیکھوں نبی کے دیار کو

 

یارب درِ رسول پہ جانا نصیب ہو

اب مختصر بھی کردے شب انتظار کو

 

آکر درِ رسول پہ آنکھیں ہیں اشکبار

آ ہی گیا قرار دل بے قرار کو

 

دے کر دہائی آل پیمبر کی دیکھیے

آقا سنیں گے آپ کے دل کی پکار کو

 

آقا مجھے بھی سوزنِ رحمت عطا کریں

پوچھے گا کون پیرہن تار تار کو

 

انجمؔ جو میرے دامن دل کو نصیب ہو

سرمہ بنا لوں خاکِ درِ نامدار کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب خدا دیکھا
جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں
خلقِ ارض و سما کی غایت ہے
رونقِ حسنِ جہاں ہیں مرے مکی مدنی
گرہ جو آگہی کی کھل رہی ہے
اے کہ ترا وجود ہے لیلائے محمل حیات
جب تک کہ جان جان میں اور دم میں دم رہے
گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی
چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا

اشتہارات