ظاہر مطیع و باطن ذاکر مدام تیرا

ظاہر مطیع و باطن ذاکر مدام تیرا

زندہ رہوں الہٰی ہو کر تمام تیرا

 

بِگڑے نظامِ دیں کو میرے بھی ٹھیک کردے

ہر دوسرا میں کیا کیا ہے انتظام تیرا

 

زنہار ہو نہ شیطان عاجز پہ تیرے غالب

بندہ نہ ہو نفس کا ہرگز غلام تیرا

 

یہ بد لگام و بدرگ نفسِ شریر و سرکش

اَے شہسوار خوباں ہو جائے رام تیرا

 

چھوڑوں نہ زندگی بھر پابندیٔ شریعت

ہو مثلِ زُلفِ دلبر مرغوب دام تیرا

 

دُوری میں شاہِ خُوباں ابتر ہے حال بے حد

ہو جائے منکشف ہاں اَب قرب تام تیرا

 

زورِ کشش سے تیرے کر جائے قطع دم میں

راہِ دراز تیری یہ سُست گام تیرا

 

پردہ خودی کا اُٹھ کر کھُل جائے رازِ وحدت

ہو مست جامِ الفت یہ تشنہ کام تیرا

 

باطن میں میرے یارب بس جائے یاد تیری

ہَر دَم رہے حضوری دل ہو مقام تیرا

 

مُونس ہو میری جاں کی فکرِ مدام تیری

ہمدم ہو میرے دل کا فکرِ دَوام تیرا

 

دل کو لگی رہے دُھن‘ لیل و نہار تیری

مذکور ہو زباں پر ہر صبح و شام تیرا

 

مورد رہے یہ ہر دم تیری تجلیوں کا

ہو جائے قلب میرا بیت الحرام تیرا

 

سینہ میں ہو منقش یا رب کتاب تیری

جاری رہے زباں پر ہر دم کلام تیرا

 

ہے اب تو یہ تمنا اس طرح عمر گذرے

ہر وقت تیرا دھندا ہر وقت کام تیرا

 

دونوں جہاں میں مجھ کو مطلوب تُو ہی تُو ہو

ہر پختہ کارِ وحدت مجذوبؔ خام تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ