ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں

 

ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں

میری امید، میرا سہارا رسول ہیں

 

حسنِ سلوک، مہر و مروّت کو دیکھ کر

اغیار کو بھی دل سے گوارا رسول ہیں

 

بہرِ تلاشِ منزل عرفان وآگہی

ہر گام راہ بر ہیں، اشارا رسول ہیں

 

اکثر ہوا ہے ایسا تصوّر کی چھاوؔں میں

میری نظر ہے اور نظارہ رسول ہیں

 

قرآن کا ہے آئینہ اخلاق مصطفیٰ

تفیر وترجمانِ سپارا رسول ہیں

 

بدر واحد میں، خندق وخیبر کی جنگ میں

ہمراہ غازیوں کے صفِ آرا رسول ہیں

 

کیوں ڈر مجھے جمیل ہو طوفانِ نوح کا

کشتی بے اماں کا سہارا رسول ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات