اردوئے معلیٰ

Search

عاالم ہوا یہ شمعِ رسالت کے نور سے

پروانے آ رہے ہیں بڑی دور دور سے

 

کوثر سے واسطہ نہ شرابِ طہور سے

ہم کو غرض ہے مستی جامِ حضور سے

 

شانِ حبیب حق کی وضاحت ہے صاف صاف

قرآں کی آیتوں سے سطورِ زبور سے

 

احسان ترے کہاں تک اٹھائیں گے اے صبا

اب حالِ دل زبانی کہیں گے حضور سے

 

عشقِ نبی میں پائے متاع شبِ الم

صبحِ طرب کو دیکھ رہا ہوں غرور سے

 

عشقِ نبی سے سب ہیں بتدریج فیضیاب

منسوب دار سے ہے کوئی کوہِ طور سے

 

کس بزم میں وہ آج بھی جلوہ فگن نہیں

دیکھے ذرا تو کوئی نگاہِ شعور سے

 

کوثر اسی جہاں میں ملے نعمتِ ارم

انسان کام لے جو ذرا بھی شعور سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ