اردوئے معلیٰ

Search

عشقِ محبوبِ خدا جب دل میں پنہاں ہو گیا

ایک اک گوشہ مرے دل کا فروزاں ہو گیا

 

ان کی یادیں ان کی الفت ان کی رحمت پر نظر

کچھ تو میرے پاس بھی بخشش کا ساماں ہو گیا

 

عرش کے جلوے نظر آنے لگے ہیں فرش پر

جب سے وہ ماہِ نبوّت جلوہ ساماں ہو گیا

 

اے شہِ خوبانِ عالم تیرے جلوؤں کے طفیل

’’ذرّہ ذرّہ غیرتِ مہرِ درخشاں ہو گیا‘‘

 

مجھ سے بے مایہ پہ کچھ ایسا ہوا ان کا کرم

دیکھ کر سارا زمانہ مجھ کو حیراں ہو گیا

 

حاضری طیبہ کی میرے نام بھی لکھ دی گئی

مجھ سے کافی دور اب جنت کا ارماں ہو گیا

 

مطلعِ خورشیدِ ایماں ہو گیا سینہ مِرا

جلوہ گر دل میں مِرے وہ جانِ ایماں ہو گیا

 

نیرِ برجِ رسالت کی کرن جس پر پڑی

آسمانِ رشد کا وہ ماہِ تاباں ہو گیا

 

المدد یا مصطفیٰ جب کہہ کے میں گھر سے چلا

ان کی رحمت سے مِرا ہر کام آساں ہو گیا

 

اس کی تربت پر برستی ہیں خدا کی رحمتیں

عظمتِ شاہ مدینہ پر جو قرباں ہو گیا

 

صرف لکھنا ہے اُسے وصفِ رسولِ ہاشمی

اب قلم سے نورؔ کا یہ عہد و پیماں ہو گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ