اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

عشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی

 

عشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی

پر کسی کو یہ نصیحت نہیں کی جا سکتی

 

کنجیاں خانۂ ہمسایہ کی رکھتے کیوں ہو

اپنے جب گھر کی حفاظت نہیں کی جا سکتی

 

کیسے وہ بستیاں آباد کریں گے ، جن سے

در و دیوار کی عزت نہیں کی جا سکتی

 

کچھ تو مشکل ہے بہت کارِ محبت اور کچھ

یار لوگوں سے مشقت نہیں کی جا سکتی

 

طائرِ یاد کو کم تھا شجرِ دل ورنہ

بے سبب ترکِ سکونت نہیں کی جا سکتی

 

اک سفر میں کوئی دوبار نہیں لُٹ سکتا

اب دوبارہ تری چاہت نہیں کی جا سکتی

 

کوئی ہو بھی تو ذرا چاہنے والا تیرا

راہ چلتوں سے رقابت نہیں کی جا سکتی

 

آسماں پر بھی جہاں لوگ جھگڑتے ہوں جمال

اس زمیں کے لیے ہجرت نہیں کی جا سکتی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عشق سچا ھے تو کیوں ڈرتے جھجکتے جاویں
تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر