علی الدوام وجود و قیام ہے اس کا

علی الدوام وجود و قیام ہے اس کا

نہ ابتدا ، نہ کوئی اختتام ہے اس کا

 

اک ایک ذرہ ہے مصروف کار پردازی

کچھ اس طرح سے منظم نظام ہے اس کا

 

اسی سے گلشن عالم میں ہے بہار و خزاں

اسی کا نورِ سحر ، رنگ شام ہے اس کا

 

اگر نظر ہے؟ تو اک اک کرن میں اسکی خبر

خرام باد صبا میں پیام ہے اس کا

 

ہماری فہم و خرد سے بعید اس کے امور

محال امر کو حل کرنا کام ہے اس کا

 

وہ بے زبان کو بخشے سخن وری کے گہر

اسی کا ملک نوا ہے ، کلام ہے اس کا

 

ہزار شکر جو محبوب رب اکبر ہے

لبوں پہ نورؔ کے ہر وقت نام ہے اس کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
میرے ہر دم میں ترے دم سے بڑا دم خم ہے
خدا کا گھر درخشاں، ضو فشاں ہے
فرشتہ تو نہیں انسان ہوں میں
کرم فرما خدا کی ذاتِ باری
مُنور ہر زماں نور خدا سے
جلال کبریا کی مظہر و عکاس ہے ساری خدائی
نہیں ہے مہرباں کوئی خدا سا

اشتہارات