اردوئے معلیٰ

علی الدوام وجود و قیام ہے اس کا

نہ ابتدا ، نہ کوئی اختتام ہے اس کا

 

اک ایک ذرہ ہے مصروف کار پردازی

کچھ اس طرح سے منظم نظام ہے اس کا

 

اسی سے گلشن عالم میں ہے بہار و خزاں

اسی کا نورِ سحر ، رنگ شام ہے اس کا

 

اگر نظر ہے؟ تو اک اک کرن میں اسکی خبر

خرام باد صبا میں پیام ہے اس کا

 

ہماری فہم و خرد سے بعید اس کے امور

محال امر کو حل کرنا کام ہے اس کا

 

وہ بے زبان کو بخشے سخن وری کے گہر

اسی کا ملک نوا ہے ، کلام ہے اس کا

 

ہزار شکر جو محبوب رب اکبر ہے

لبوں پہ نورؔ کے ہر وقت نام ہے اس کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات