غدر سے بے خبر نہیں ہونا

غدر سے بے خبر نہیں ہونا

بدعائے بشر نہیں ہونا

 

منزلوں کا سُراغ بھی رکھنا

صرف گردِ سفر نہیں ہونا

 

تان رکھنا وجود پر چھایا

ماسوائے شجر نہیں ہونا

 

شام بننا کوئی سُہانی سی

جون کی دوپہر نہیں ہونا

 

صحرا کی خشکیوں سے چکرا کر

پانیوں کا بھنور نہیں ہونا

 

مرتضیٰ لوگ روند ڈالیں گے

اتنے بھی بے ضرر نہیں ہونا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر بس اعداد کی گنتی سے بڑھ کر کچھ نہیں
جو دل دھڑک رہے تھے وہ دف بھی نہ ہو سکے
اب مجھے درد کا احساس بھی کم ہوتا ہے
خدا کی نعمتوں سے نعمتیں کچھ اور کر پیدا
دریدگی بھی حقیقت ہے چاک واقعہ ہے
کیا مرگ و نیستی ہے تو کیا بود و ہست ہیں
رات کٹتی ہے مگر تارِ تنفس ہو کر
مردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین
کوچۂ الفت میں خوفِ آبلہ پائی نہ کر
دل میں جو خلش پنہاں ہے کہیں، اس کا ہی تو یہ انجام نہیں