غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے

 

غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے

جیسی خوشبو مصطفی کے گیسوئے اطہر میں ہے

 

ہر گھڑی طیبہ کی یادوں میں مگن ہے دل مرا

آرزو شہرِ مدینہ کی دلِ مضطر میں ہے

 

کم نہ ہوں گی اب کسی تدبیر سے بے تابیاں

اے طبیب ان کا مداوا دیدِ بام و در میں ہے

 

مژدۂ اذنِ حرم سے دیں تسلی زیست کو

زندگی بس دیدِ طیبہ کے حسیں محور میں ہے

 

’’دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں‘‘

بو ہریرہ کو خبر ہے کیا مری چادر میں ہے

 

میں ہزاروں جان سے قربان اس رحمت پہ جو

صورتِ بادِ تسلـّی گرمئی محشر میں ہے

 

نقشِ نعلینِ کرم سے ہیں جہاں میں عزتیں

کیا کوئی خوبی بھی اپنی بے نوا منظرؔ میں ہے؟

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ