فزوں تر عشقِ احمد مصطفیٰؐ ہو

فزوں تر عشقِ احمد مصطفیٰؐ ہو

کرم فرما زمانوں پر خدا ہو

 

محبت ہو جو محبوبِ خداؐ سے

خدا کی بندگی کا حق ادا ہو

 

خدا کر دے عطا اٹھنے سے پہلے

مری سرکارؐ کا دستِ دعا ہو

 

مروّت، حلم ہو انساں کا شیوہ

زباں پر لا الہ، صلِ علیٰ ہو

 

حضورؐ اُمت مصائب میں گھری ہے

نگہِ لطف و کرم، بہرِ خدا ہو

 

فضیلت آپؐ کو دی ہے خدا نے

شفاعت آپؐ کی روزِ جزا ہو

 

ظفرؔ کے سر پہ رحمت کی ردا ہو

عطائے جاں فزا ہو، دل کشا ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا