فضائے طیبہ میں دن جو گزرے وہ آج پھر یاد آئے دل کو

فضائے طیبہ میں دن جو گزرے وہ آج پھر یاد آئے دل کو

حیات بخشی ہے اُس فضا میں، اُسی سے انساں لگائے دل کو

 

تجلیِ عہدِ شاہ طیبہ کی بات روشن کریں فضائیں

پھر اس کے بعد اور کیوں کسی عہد کا فسانہ سنائے دل کو

 

جو اُن فضاؤں سے کٹ گئے ہیں وہ نام تک اپنا کھو چکے ہیں

بھلا ہو نظَّارۂ مسلسل کا جس میں گُم کوئی پائے دل کو

 

حضور ﷺ! ہر سمت بو لہب کی روش سے بے نور ہیں فضائیں

حضور ﷺ! اب تو بہارِ جاوید کی فضا بھی لبھائے دل کو

 

اُنہی ﷺ کی سیرت کے نقش ابھریں نگر نگر کی بہار بن کر

جمالِ آقا ﷺ سے کاش اُمت کا بچہ بچہ بسائے دل کو

 

خوشا! زبان و قلم سے ان کا ہی ذکر دل میں اُتر رہا ہے

خوشا! کہ اُن ﷺ کی محبتوں نے بنا لیا ہے سرائے دل کو

 

عزیزؔ احسن، حضور ﷺ کے عہدکی فضاؤں کو یاد رکھو!

طریق بے ڈھب ہیں سب یہاں کے، یہاں کوئی کیا لگائے دل کو؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اپنی اوقات کہاں، ان کے سبب سے مانگوں
جب کبھی تذکرۂ شہرِ پیمبر لکھنا
تاج کی ہے طلب اور نہ زر چاہئے
ہر مرض کی دوا وردِ صلِ علیٰ مدحتِ مصطفیٰ ﷺ
بولنا سیکھا تو یہ بات کہی
لبوں سے اسمِ محمدﷺ جدا نہیں ہوگا
جوطلبگار مدینے میں چلا آتا ہے
عالم تمام عکس جمال محمدؐ است
جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہوا ہے
حضور کی جستجو کریں گے