فلک بھی اس کے مقدر پہ رشک کرتا ہے

فلک بھی اس کے مقدر پہ رشک کرتا ہے

غلامِ سرور کونین کا وہ رتبہ ہے

 

حصارِ نور میں محسوس ہو رہا ہے وجود

ابھی تو نعت کے بارے میں صرف سوچا ہے

 

شفیع و رحمتِ عالم کے اُمتی ہیں ہم

جب آپ اپنے ہیں تو پھر تمام اچھا ہے

 

بجھے گی تشنگی اپنی نہ صرف زمزم سے

ہمارا مطمعِ قلب و نظر مدینہ ہے

 

کوئی مماثلِ سرور کبھی نہیں ممکن

کہ ایسا پھول فقط ایک بار کھلتا ہے

 

گرانا چاہیں گے جب نار میں ملک مجھ کو

کہیں گے آپ اسے چھوڑو اپنا بندہ ہے

 

عمر کی شان نرالی ہے باقی اُمت سے

قمرؔ حضور نے ان کو خدا سے مانگا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ