فکر و فن حرفِ سخن نکتہ رسی مبہوت ہے

فکر و فن حرفِ سخن نکتہ رسی مبہوت ہے

رو بروئے نعتِ سرور شاعری مبہوت ہے

 

لفظ ان کی شان کے لائق میسر ہی نہیں

ہندی اردو محوِ حیرت فارسی مبہوت ہے

 

تذکرہ شاید چھڑا ہوگا دیارِ نور کا

جنت الفردوس کی بارہ دری مبہوت ہے

 

کون گزرا ہے فضائیں مشکبو کرتا ہوا

شہرِ خوش تمثیل کی ہر اک گلی مبہوت ہے

 

واہ رزقِ خاکِ شہرِ نور ہونا ہے مجھے

زائرِ بطحا کی پلکوں پر نمی مبہوت ہے

 

نقشِ نعلینِ نبی کمرے میں آویزاں کیا

بام و در میں راج کرتی روشنی مبہوت ہے

 

ذکر ہے شاہِ مدینہ کے لب و رخسار کا

سر بہ خم ہیں نکہتیں اور تازگی مبہوت ہے

 

شان و شوکت دیکھ کر ادنیٰ گدائے شاہ کی

بادشاہانِ جہاں کی سروری مبہوت ہے

 

دیکھ کر تکریمِ شاہِ دوسرا معراج پر

کہکشائیں دنگ ہیں جبریل بھی مبہوت ہے

 

دو جہاں کی بادشاہت اور غذا نانِ جویں

چھال کے بستر پہ ساری سادگی مبہوت ہے

 

گفتگو اشفاق سن کر سرورِ کونین کی

نکتہ داں سکتے میں ہیں دیدہ وری مبہوت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ کے بعد نام ہے میرے حضور کا
ہے دل میں جلوۂ رُخِ تابانِ مصطفےٰ
عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی
آنکھوں میں اشک، دل میں ہو الفت رسول کی
اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو
آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا
عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے
نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں
اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی
محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

اشتہارات