فیض احمد فیض کی شاہکار نظم ، ہم دیکھیں گے

فیض احمد فیض کی شاہکار نظم ، ہم دیکھیں گے

——
ماہنامہ ادب لطیف کی مدیراعلی محترمہ صدیقہ بیگم اپنے فرسٹ کزن ۔ ممتاز کیلی گرافر۔ شاعر ۔دانشور اور سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری محمد حنیف رامے کے ہمراہ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی اقامت گاہ پر اپنے بتاۓ ہوۓ وقت پر پہنچیں۔ ان کے پہنچتے ہی ہماری ذمہ داریاں شروع ہوچکی تھیں ۔ ہم فوری طور پر ملک معراج خالد صاحب اور ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کو لینے کےلیے روانہ ہوگۓ ۔ جب دونوں اصحاب کو پِک کرلیا تو ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے پوچھا کہ انکل ہم پہلے آپ کو ڈراپ کردیں اور دوبارہ آکر باباجی شیخ رشید صاحب کو پک کرلیں یا ابھی جاتے ہوۓ ہی انہیں ساتھ ہی لےچلیں ۔ ملک معراج خالد صاحب اور مبشر حسن صاحب نے فرمایا کہ دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں ہے ابھی جاتے ہوۓ راستے میں ہی اچھرہ رکتے ہوۓ انہیں پک کرلیں ۔ قصہ مختصر ہم تینوں اصحاب کو لے کر شادمان میں واقع بلے ہاؤس پہنچے ۔ شہزاد احمد صاحب کو ہم نے پہلے ہی فون پر مطلع کردیا تھا کہ مہمانان گرامی پہنچ چکے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے والد گرامی کو مخاطب فرمایا ۔ بلے صاحب آپ کے صاحبزادے سے ہم نے پوچھا کہ کہ آپ دس منٹ دیں تو ہم مکمل نہ سہی کچھ تھوڑا بہت کھا کر آپ کے ساتھ چلیں تو صاحبزادے نے کہا نہیں اس بات کی تو اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ باباجانی اور دیگر احباب منتظر ہونگے ۔ اور کھانے کےلیے آپ کا ہی انتظار ہورہا ہوگا ۔ ابو جان نے یہ سن کر کہا بالکل ٹھیک کیا ۔ آج کی دعوت خاص کا مقصد ہی مل بیٹھنا تھا۔ آج برسوں بعد ہم سب کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کا موقع میسر آیا ہے اور اس کےلیے ہم محترمہ صدیقہ بیگم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے حنیف رامے صاحب کو قابو کرلیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : فیض احمد فیض کا یوم پیدائش
——
بس پانچ سات منٹ میں اشفاق احمد صاحب اور بانو قدسیہ صاحبہ پہنچنے والے ہیں۔ یہ فرما کر والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے صاحب نے ہمیں آواز دے کر کہا کہ صدیقہ بیگم نے یہاں اکٹھے ہوکر کس وقت روانہ ہونے کی تاکید کی تھی ۔ مہم نے عرض کیا کہ ساڑھے دس تک کی مہلت ہے ہمارے پاس اور ساڑھے دس بجنے میں ابھی ڈیڑھ گھنہ باقی ہے اور آپ تمام معزز مہمانان گرامی سے گزارش ہے کہ کھانا چن دیا گیا ہے اور بانو آپا اور اشفاق احمد خاں صاحب تشریف لاچکے ہیں ۔ تشریف مذید گفتگو ٹیبل پر دوران کھانا جاری رہے گی۔ کھانے کے دوران اور بعد گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ قہوہ اور چاۓ کافی کا دور چلا ۔ تمام احباب نے اپنی اپنی حسین یادوں کو بیان کیا۔ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب اور چوہدری محمد حنیف رامے صاحب نے اپنی بہت سی یادوں میں والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب سے اپنے روابط اور مراسم کے حوالے دیتے ہوۓ فرمایا کہ فخرالدین بلے صاحب نے بھی جمہوریت پسند ہونے کی بھاری قیمت ادا کی اور بھٹو صاحب سے قریبی اور دوستانہ مراسم کے باعث بلے صاحب ضیا ٕ الحق کے منتقمانہ اقدامات کا نشانہ بھی بنے۔ اشفاق احمد خاں صاحب نے جنرل ضیا ٕ الحق کے بہت سے جابرانہ اقدامات کو موضوع بنایا اور سید فخرالدین بلے صاحب کی جبری سبکدوشی پر بھی بات کی۔ ڈاکٹر مبشر حسن ۔ ملک معراج خالد ۔ اشفاق احمد اور حنیف رامے کے ساتھ ساتھ صدیقہ بیگم نے سید فخرالدین بلے کی مزاحمتی شاعری کے تذکرے میں ڈسپلن۔ اور پتنگ جیسی متعدد نظموں اور غزلیات کے حوالے بھی دیۓ۔ ٹھیک ساڑھے دس بجے تمام مہمانان گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کو لیکر اواری ہوٹل کے لیے روانہ ہوگۓ اور ہم صدیقہ بیگم کے ہمراہ روانہ ہوۓ۔ اواری ہوٹل کا ہال سینکڑوں معززین شہر سے بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج سے قریب ترین کرسیوں کی پہلی قطار ان معزز مہمانوں کےلیے پہلے سے ہی ریزروڈ تھی۔ لیکن ہم ۔ شہزاد احمد اور صدیقہ بیگم نے کرسیوں کے بجاۓ اسٹیج کے ساتھ بچھی چانیوں پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ غزل کی ممتاز گلوکارہ محترمہ اقبال بانو نے اپنے اعزاز میں منعقدہ موسیقی کی اس محفل میں بھرپور انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ ۔ اور فیض احمد فیض کی شاہکار نظم ہم دیکھیں گے سے ہی محفل کا آغاز کیا اور صبح ساڑھے چار بجے اسی شاہکار نظم پر محفل کا اختتام فرمایا ۔
فیض احمد فیض کی شاہکار نظم کے حوالے سے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔
سال 1985 میں جنرل ضیا الحق کے فرمان کے تحت عورتوں کے ساڑھی پہننے پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔ پاکستان کی مشہور گلوکارہ اقبال بانو نے احتجاج درج کراتے ہوئے لاہور کے ایک اسٹیڈیم میں کالے رنگ کی ساڑھی پہن کر 50,000 سے زیادہ سامعین کے سامنے فیض احمد فیض کی یہ نظم ۔ ہم دیکھیں گے۔ گائی ۔ نظم کے بیچ میں سامعین کی طرف سے انقلاب زندہ باد . جمہوریت زندہ باد اور مردہ باد مردہ باد آمریت مردہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔
بعدازاں 1986 میں جلاوطنی ختم کرکے واپس لوٹنے کے بعد بھی محترمہ بےنظیر بھٹو نے بھی ایک شاندار تقریب میں جب اقبال بانو نے یہ نظم ۔ ہم دیکھیں گے پیش کی تو بےنظیر بھٹو صاحبہ نے کلپ کرکر کے اقبال بانو کا خوب ساتھ دیا تھا ۔ ہم اس تقریب میں اپنے جگر جانی سجن بیلی سیدی محسن نقوی صاحب کے ہمراہ گۓ تھے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
——
ملک کی حالیہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں عدلیہ کے فقیدالمثال طرز انصاف نے ایک تاریخی بلکہ ت رقم کی ہے ۔ اسٹیبلشمینٹ اور عدالت عظمی کے غیر جانبدار رویوں اور حکمت عملی اور جمہوریت بہترین انتقام ہے کی اصطلاح کے داعی سابق صدر جناب آصف علی زرداری نے مثبت اقدامات کے ذریعے ثابت کیا کہ ان کی قیادت میں سابقہ متحدہ حزب اختلاف ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ کھپے کھپے پاکستان کھپے کے داعی آصف علی زرداری نے ثابت کیا کہ سیاسی بصیرت میں ان کا ثانی نہیں ۔ اور یہ کہ آصف علی زرداری صاحب نے یہ بھی ثابت کیا کہ اقتدار کی ان کو حاجت نہیں بلکہ وہ ایک بصیرت افروز بادشاہ گر ہیں ۔ آج کا تاریخی دن 10 اپریل کہ جو یوم دستور پاکستان بھی ہے اور حسن اتفاق سے اسی تاریح کو دختر مشرق ۔ شہید رانی محترمہ بےنظیر بھٹو نے آمر اعظم ۔ جابر اعظم ابوالمنافقین ضیا ٕ الحق جیسے بدترین باطل کے خلاف اور تحریک بحالی جمہوریت کا آخغاز کیا ۔ اسی تاریخی اور تاریخ ساز دن آج ضیا ٕ الحق کے روحانی مرید اور پیروکار سلیکٹڈ عمران نیازی اور ان کی آمرانہ طرز حکومت کو تاریخی اور فقیدالمثال شکست فاش دی ۔ 10 اپریل آج یوم دستور پاکستان کے طور پر بھی اور یوم نجات ابوالمنافقین کے طور پر بھی ۔ یوم فتح دستور کے طور پر بھی اور یوم بحالی ٕجمہوریت کے طور پر بھی ایک تاریخ ساز دن ثابت ہوا۔
——
اب آخر میں ملاحظہ ہو فیض صاحب کی شاہکار نظم ۔ ہم دیکھیں گے ۔
——
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ