اردوئے معلیٰ

وہ ابر فیض نعیم بھی ہے نسیم رحمت شمیم بھی ہے

 

وہ ابر فیض نعیم بھی ہے نسیم رحمت شمیم بھی ہے

شفیق بھی ہے خلیق بھی ہے رحیم بھی ہے کریم بھی ہے

 

وہ حسن سیرت کا ہے مرقع جمال حق ہے جمال اس کا

وہ پیکر فطرت معلے شبیہ خلق عظیم بھی ہے

 

وہ علم و عرفاں کا مدینہ خزینہ راز اس کا سینہ

وہ پیکر نور سرمدی ہے وہ حسن خلق عظیم بھی ہے

 

وہ حامل و صاحب شریعت وہ مرشد و ہادی طریقت

معلم معرفت بھی وہ ہے رموز حق کا علیم بھی وہ ہے

 

خلیلؑ کی وہ دعا کا ثمر ، کلیمؑ نے اس کی دی بشارت

وہ خاتم نعمت نبوت ظہور لطف عمیم بھی ہے

 

کوئی یہ اس کا وقار دیکھے پھر اس پہ یہ انکسار دیکھے

سر مبارک پہ تاج اطہر ہے دوش پر ایک گلیم بھی ہے

 

اٹھائیں جن سے اذیتیں پھر انہیں کے حق میں دعائیں مانگیں

کسی میں یہ شان حلم بھی ہے اور ایسا کوئی حلیم بھی ہے

 

وہ بقعہ نور وہ مدینہ حضور خلوت نشیں ہیں جس میں

نعیم خلد بریں بھی اس میں وہ رشک خلد نعیم بھی ہے

 

ہوا جو یثرب سے آ رہی ہے ہر ایک کلی کو کھلا رہی ہے

یہی ہوا ہے نسیم رحمت یہی تو لطف شمیم بھی ہے

 

جناب موسیٰؑ کلیم تھے میں بھی مانتا ہوں کلیم ان کو

مرے پیمبر کا ہے یہ رتبہ جلیس بھی ہے کلیم بھی ہے

 

یہ آپ کے قیس کا ہے ایماں حضور ہیں رہنمائے انساں

حضور کا جو نہیں قائل شقی بھی ہے وہ لئیم بھی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ