لاریب ذاتِ سرورِ کونین ہے عظیم

لاریب ذاتِ سرورِ کونین ہے عظیم

مطلوبِ خلق، رحمتِ دَارین ہے عظیم

 

کوئی نہیں نبی کے سوا جس کو کہہ سکیں

ہستی سما و ارض کے مابین ہے عظیم

 

آئے رسول دن میں بہاریں سما گئیں

سوئے فلک چلے تو کُھلا رَین ہے عظیم

 

شہرِ نبی سے ہو کے جو آئے وہ کہہ اُٹھے

دربار ہے عظم وہاں چین ہے عظیم

 

’’تیرے بدن میں عشقِ محمد کی ہے مہک‘‘

کہہ دیں لحد میں جس کو نکیرین، ہے عظیم

 

رمزِ درودِ پاک سمجھنے کے واسطے

اک رہنما کتاب ’’جلالین‘‘ ہے عظیم

 

اصحابؓ سب ہیں نورِ رسالتؐ سے مستنیر

قربت سے شہؐ کی رتبۂ شیخینؓ ہے عظیم

 

عفوِ گناہ کا ہے بھروسا جو حشر میں

جرموں سے میرے ’’فضلِ کریمین‘‘ ہے عظیم

 

سر پر رکھوں ملے جو وہ خوابوں میں بھی عزیزؔ

نسبت سے انؐ کی رتبۂ نعلین ہے عظیم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خطا کار چوکھٹ پہ آئے ہوئے ہیں
مدحِ ناقہ سوار لایا ہوں
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
سفر ہے خواب کا اور باادب ہے
لم یات نظیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
مصطفیٰؐ کے کوچے میں نور کے بسیرے ہیں
تو اوج رسالت ہے شہ خیر امم ہے
درِ نبیؐ پہ بٹ رہی ہیں صبح و شام رفعتیں
وہ ابر فیض نعیم بھی ہے نسیم رحمت شمیم بھی ہے
مطلعِ نعت ہے سب زورِ بیاں ہے خاموش

اشتہارات