لبِ رسول کی دعا، حسین تھا حسین ہے

لبِ رسول کی دعا، حسین تھا حسین ہے

ہر ایک دل کی التجا، حسین تھا حسین ہے

 

حسین باکمال ہے، وہ فاطمہ کا لال ہے

سخی، متین ، باصفا ، حسین تھا حسین ہے

 

وہ پنجتن کی آن ہے، وہ سیدوں کی شان ہے

خدا کے دین کی بقا، حسین تھا حسین ہے

 

دل و نظر کا چین ہے، علی کا نورِ عین ہے

رئیسِ اہلِ کربلا، حسین تھا حسین ہے

 

شہادتوں کی رِیت ہے، صداقتوں کی جیت ہے

محبتوں کی انتہا ، حسین تھا حسین ہے

 

چلی ہے جس کی گفتگو، ہوئی ہے اس کی جستجو

مشامِ جان میں بسا، حسین تھا حسین ہے

 

دِلوں پہ جس کا راج ہے، ہمارے سر کا تاج ہے

شبابِ خلد کی صدا، حسین تھا حسین ہے

 

وہ روشنی ہے نور ہے، نگاہ کا سرُور ہے

نظر نظر کا مدعا، حسین تھا حسین ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ