لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں

لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں

مجھ سے دل کھول کے لگتا ہے مِلا تو بھی نہیں

 

اُن کی آنکھوں کے ستارے تو بہت دور کی بات

ہم وہاں ہیں کہ جہاں یاد کے جگنو بھی نہیں

 

جب سے گردن میں نہیں ہے کوئی بانہوں کی کمان

میرے سینے میں کوئی تیر ترازو بھی نہیں

 

یا تو ماضی کی مہک ہے یا کشش مٹی کی

ورنہ اُن گلیوں میں ایسا کوئی جادو بھی نہیں

 

رات کی بات تھی شاید وہ نشہ اور جادو

دن چڑھے رات کی رانی میں وہ خوشبو بھی نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

اشتہارات