اردوئے معلیٰ

لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں

مجھ سے دل کھول کے لگتا ہے مِلا تو بھی نہیں

 

اُن کی آنکھوں کے ستارے تو بہت دور کی بات

ہم وہاں ہیں کہ جہاں یاد کے جگنو بھی نہیں

 

جب سے گردن میں نہیں ہے کوئی بانہوں کی کمان

میرے سینے میں کوئی تیر ترازو بھی نہیں

 

یا تو ماضی کی مہک ہے یا کشش مٹی کی

ورنہ اُن گلیوں میں ایسا کوئی جادو بھی نہیں

 

رات کی بات تھی شاید وہ نشہ اور جادو

دن چڑھے رات کی رانی میں وہ خوشبو بھی نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات