لحن سے نعت میں کچھ ایسا اثر آتا ہے

لحن سے نعت میں کچھ ایسا اثر آتا ہے

چاند جیسے کوئی آنگن میں اتر آتا ہے

 

سر جھکائے ہوئے جب کرتا ہوں میں ورد ِ درود

دلِ بے تاب مجھے طیبہ نظر آتا ہے

 

عشق میں ایڑیاں دل میرا اٹھاتا ہے ذرا

گنبدِ سبز کا دیدار یوں کر آتا ہے

 

کون کر سکتا ہے یوں عشقِ نبیؐ کا اظہار

چشمِ تر تجھ کو فقط ایسا ہنر آتا ہے

 

روشنی میرے تخیل میں یوں در آتی ہے

مصرعِ نعت جو واں مثلِ قمر آتا ہے

 

سبز گنبد کے تلے ایسا سکوں ملتا ہے

جیسے بھولا ہوا ، بھٹکا کوئی گھر آتا ہے

 

پہلے کرتی ہے مسافر کو معطر خوشبو

اور پھر سامنے سرکارؐ کا در آتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ
بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
جب تصور میں کبھی گنبد ِ خضراء دیکھوں
ہر شئے میں تیرے نور کا جلوہ ہے یا نبی
رات دے سارے حمیتی زرد پیلے ہوگئے
اگرچہ چشمِ ارادت نظر کنی صاحبؔ
کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں