لفظ میں تاب نہیں، حرف میں ہمت نہیں ہے

لفظ میں تاب نہیں، حرف میں ہمت نہیں ہے

لائقِ حمد، مجھے حمد کی طاقت نہیں ہے

 

ایک آغاز ہے تو، جس کا نہیں ہے آغاز

اک نہایت ہے مگر جس کی نہایت نہیں ہے

 

وحشتِ قریۂ دل میں ترے ہونے کا یقیں

ایسی جلوت ہے کہ مابعد بھی خلوت نہیں ہے

 

ترا بندہ ہوں، ترے بندے کا مداح بھی ہوں

اس سے آگے تو مری کوئی حقیقت نہیں ہے

 

ایک تبریک کی تحریص میں لایا ہوں کتاب

خوب معلوم ہے شایانِ رسالتؐ نہیں ہے

 

چند سطروں میں لپیٹے ہوئے حاضر ہے نیاز

ایک بھی حرف بغیر اذن و اجازت نہیں ہے

 

تو جو چاہے تو سخن میرا معطر کر دے

حرف رنگوں میں ڈھلیں اس میں بھی حیرت نہیں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

درد سے میرا دامن بھر دے، یا اللہ!
بحروبر کو سنبھالتا، تُو ہے
حوصلہ دے فکر کو اور بارشِ فیضان کر
محبت کا جہاں آباد مولا
مرا عشق و عرفاں، مرا دین و ایماں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی
جلالِ کبریا اللہ اکبر
خدائے پاک رب العالمیںؐ ہیں
خدا مختارِ کُل، فرمانروا ہے
خدا ہے منفرد ممتاز یکتا
خدا واحد خدا سب سے جُدا ہے