لکھوں پہلے حمدِ علیِ عظیم

لکھوں پہلے حمدِ علیِ عظیم

علیمٌ حکیمٌ رحیمٌ کریم

 

بدیع السمٰوات و الارض ہے

عبادت اسی کی فقط فرض ہے

 

وہی واجب و خالقِ ممکنات

کہا اس نے کُن، ہو گئی کائنات

 

نہیں کوئی موجود اس کے سوا

نہیں کوئی معبود اس کے سوا

 

اسی سے وجود اور اسی سے عدم

اسی سے حدوث اور اسی سے قدم

 

اسی کے ہیں وارفتہ یہ ماہ و مہر

اسی کے ہیں سرگشتہ ساتوں پہر

 

نہ وہ جسم ہے اور نہ وہ جان ہے

ہر اک جسم و جاں اِس میں حیران ہے

 

وہی شش جہت میں حضورِ نظر

نہ دیکھے اگر، ہے قصورِ نظر

 

ہر اک دل میں ہے درد اس کا مقیم

خلیل اس کا کہتا ہے اِنّی سقیم

 

سب اُس کے ہیں طالب، وہ مطلوب ہے

وہ غالب ہے، جو شے ہے مغلوب ہے

 

وہ خلاق ہے اور رزاق ہے

مبرا وہ ہے جفت سے، طاق ہے

 

خدائی میں بے مثل و ضد ہے وہی

وَلَم یُولِد اور لَم یُلِد ہے وہی

 

سنو آیہ اے اہلِ فقرِ مکب

وَ یَرزُقهُ مِن حَیثُ لا یَحتَسِب

 

وہ مستور ہے بینشِ وہم سے

بہت دور ہے دانشِ فہم سے

 

وہ دریا ہے موجیں ہیں ماو شما

مگر کوئی اُس سے نہیں آشنا

 

نہ وہ ہے مرکب نہ وہ ہے بسیط

مگر ہے عَلٰی کُلِّ شَیءٍ محیط

 

زیادہ رگِ جاں سے نزدیک ہے

فقط کید ہے، جن کو تشکیک ہے

 

یہ ہے ان کے حق میں کلامِ مبین

وَ أُمْلِی لَهُمْ إِنَّ كَیْدِی مَتِینٌ

 

نہیں اُس کی تحمید حدِ بشر

کہ اپنی بھی اس کو نہیں کچھ خبر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر طرف کائنات میں تم ہو
تُو نے مجھ کو حج پہ بُلایا یا اللہ میری جھولی بھردے
جو چھوڑتا نہیں مجھے تنہا وہی تو ہے
نہیں دل کے مدینے میں کوئی جلوہ نہاں اُس کا
خدا میرا شفیق و مہرباں ہے
سرورِ قلب و جاں ہے، ربِ ہست و بُود تُو ہی تُو
خدا کے ذکر سے دل مطمئن ہیں، خدا کے ذکر سے مسرور جاں ہے
سبھی آفاق سے وہ ماوراء ہے
خدا نے کی عطا اپنی محبت
عبادت ہو خُدا کی اِس ادا سے

اشتہارات