لگا لُعابِ دہن جب علیؓ کی آنکھوں میں

(منقبت: فاتحِ خیبر سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

 

لگا لُعابِ دہن جب علیؓ کی آنکھوں میں

شجاعتوں کی عجب داستاں رقم کر دی

علیؓ نے دین کا پرچم بلند فرما کر

وغا میں عدل کی تاریخ محترم کر دی

 

ہو معرفت، کہ بصیرت، وہ فقر ہو کہ غِنا

علیؓ کی ذات میں یکجا ہیں یہ تمام صفات

خروج و رِفض کی توڑی ہے آپؓ ہی نے کمر

اُن ہی کے دم سے ملا ہے بہادری کو ثبات

 

ہر اِک خلیفۂ راشد کے وہ مشیر رہے

ہر ایک عہد میں عزت انہیں نصیب رہی

فضا میں ان کی خطابت سے روشنی پھیلی

ولیٔ حق تھے ولایت انہیں نصیب رہی

 

بصیرتوں کا عجب سلسلہ چلا اُنؓ سے

انہی کی ذات سے پھوٹی شعاعِ علم و عمل

اُنہی کی سیرتِ کامل کا عکس تھے حسنینؓ

ملی تھی جن کو وراثت میں صدق کی مشعل

 

علیؓ نماز میں تھے منفرد کہ ان کی نماز

خصوصیت سے حضوری کا درس دیتی تھی

علیؓ نبیِؐ گرامی کے مقتدی بھی رہے

پھر اقتدائے ابوبکرؓ میں نماز پڑھی

 

ابوالحسنؓ کی فضیلت، عمل سے قائم ہے

شجاعت ان کی ہے ضرب المثل زمانے میں

غلط کہ اُن میں تقیے کا کوئی عُنصُر تھا

بجا کہ وہ بھی تھے شامل بدی مٹانے میں

 

علیؓ کے قلب میں ایماں کی روشنی آئی

اور ایسے وقت! کہ تھی تیرگی زمانے میں

صغیر سِن تھے کہ ہاتھ آئی دین کی نعمت

یہ دولت اُن کو ملی ہاشمی گھرانے میں

 

سلام فاتحِ خیبر کی عظمتوں پہ عزیزؔ

کہ وہ خلوص و وفا کے حسین پیکر تھے

وہ حُبِّ دیں میں یقینا تھے کامل و اکمل

علیؓ کی ذات میں عرفاں کے لاکھ جوہر تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بندہ قادر کا بھی، قادر بھی ہے عبد القادر
سادات کا نشاں ہیں مشرف حسین شاہ
ہے رخِ ماہِ صداقت پر چمک صدیق کی
مرکزِ علم و فکر و حقیقت
آقاﷺ جو نہیں تھے تو امانت بھی نہیں تھی
دشت ہے کل جہاں سائباں آپ صلی اللہ علیک وسلم ہیں
اَتِّباعِ سیدالکونین ﷺ کے فیضان سے
دعوے جو میں کرتا ہوں سرکار ﷺ کی اُلفت میں
جذبات ڈھل رہے ہیں یوں شاعری کے فن میں
اپنے گرد و پیش کے ماحول کو بہتر بنا